واشنگٹن::امریکہ نے منگل کے روز تجارتی بحری جہازوں کے عملے کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات کا ذمہ دار ایران کو قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایرانی افواج نے 7 تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا اور خلیجی ممالک پر بھی میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایک بیان میں کہا کہ ایران نے جان بوجھ کر شہری جہازوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد شہری ملاح ہلاک، لاپتا یا زخمی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 7 دنوں کے دوران ایران نے خطے میں شہریوں کو دانستہ نشانہ بنایا ہے۔ 7 تجارتی جہازوں پر حملوں کے نتیجے میں تقریباً ایک درجن شہری عملے کے ارکان ہلاک، لاپتا یا زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی افواج نے پڑوسی خلیجی ممالک کی جانب درجنوں میزائل اور ڈرون بھی داغے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج اس بلااشتعال جارحیت پر ایران کو جواب دہ ٹھہرا رہی ہیں کیونکہ اس سے بے گناہ شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ رہی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی ایشیا میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیوں اور سمندری سلامتی سے متعلق تنازع مزید شدت اختیار کر چکا ہے۔امریکی فوج کئی بار ایران پر الزام عائد کر چکی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف بین الاقوامی بحری آمد و رفت اور تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ پیدا کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی مصروف ترین بحری تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔
سینٹرل کمانڈ کا تازہ بیان اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے کہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی جانب آنے اور جانے والے جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کر دی ہے۔ یہ اقدام ایران پر مزید امریکی حملوں کے چند گھنٹے بعد کیا گیا۔ایکس پر جاری ایک بیان میں سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ مشرقی امریکی وقت کے مطابق شام 4 بجے بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی گئی۔ امریکی افواج ایسی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جن کا مقصد ان ایرانی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جنہیں واشنگٹن کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
بیان کے مطابق اس بحری ناکہ بندی کے لیے خطے میں امریکہ کے 20 سے زائد جنگی بحری جہاز اور سیکڑوں فوجی طیارے تعینات ہیں۔ادھر ہندوستان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران دو تجارتی جہازوں ایم ٹی البہیہ اور ایم ٹی ممباسا پر حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان دونوں جہازوں پر مجموعی طور پر 46 افراد کا عملہ موجود تھا جن میں 30 ہندوستانی ملاح شامل تھے۔ایم ٹی البہیہ پر موجود 12 ہندوستانی شہریوں میں سے ایک کی موت ہو گئی جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔ایم ٹی ممباسا پر موجود 18 ہندوستانی شہریوں میں سے 9 زخمی ہوئے ہیں جن میں 2 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ اماراتی پرچم بردار آئل ٹینکر ممباسا اور البہیہ کو عمان کی علاقائی سمندری حدود میں آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرتے وقت ایرانی کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔