نئی دہلی: ہندوستان میں فلسطین کے سفیر عبداللہ ایم ابو شاوَش نے کہا ہے کہ فلسطین کی اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ ہے، کیونکہ واشنگٹن وسیع بین الاقوامی حمایت کے باوجود سلامتی کونسل میں اس عمل کو روکتا رہا ہے۔
اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے ابو شاوَش نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کے لیے تین مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، جن میں سے فلسطین پہلا مرحلہ مکمل کر چکا ہے اور تیسرے مرحلے میں بھی اسے کسی مشکل کا سامنا نہیں۔
انہوں نے کہا، "اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کے لیے پہلے سیکریٹری جنرل کو درخواست پیش کی جاتی ہے، اور ہم یہ مرحلہ پہلے ہی مکمل کر چکے ہیں۔" انہوں نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل فلسطین کی رکنیت کی سفارش جنرل اسمبلی کو بھیجے، جس کے بعد جنرل اسمبلی حتمی فیصلہ کرتی ہے۔ ابو شاوَش نے کہا، "سلامتی کونسل کی سفارش کے بعد معاملہ جنرل اسمبلی میں جاتا ہے، جہاں ہمیں رکنیت مل سکتی ہے۔ اس طرح پہلے اور تیسرے مرحلے میں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، لیکن دوسرا مرحلہ رکاوٹ بنا ہوا ہے۔"
انہوں نے الزام لگایا کہ سلامتی کونسل میں امریکہ بار بار اس عمل کو روک دیتا ہے۔ انہوں نے کہا، "بدقسمتی سے ہمارے تجربے کے مطابق دوسرا مرحلہ خود امریکہ نے روک رکھا ہے، اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اسرائیلی قبضے کی مکمل حمایت کرتا ہے۔" ادھر پیر کے روز برسلز میں فلسطین ڈونر گروپ کے وزارتی اجلاس کے دوران ہندوستان نے اپنی روایتی خارجہ پالیسی کو دہراتے ہوئے فلسطین کی اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کی حمایت کا اعادہ کیا اور خطے کے تنازع کے مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔
ہندوستان کا یہ مؤقف وزارت خارجہ کی سکریٹری سری پریا رنگناتھن نے پیش کیا، جنہوں نے برسلز میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی۔ اس اجلاس میں یورپی یونین، اس کے رکن ممالک، فلسطین، بین الاقوامی شراکت داروں اور مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے فلسطینی اتھارٹی کے لیے مالی تعاون اور فلسطینی عوام تک انسانی امداد کی فراہمی پر غور کیا۔
اجلاس میں سری پریا رنگناتھن نے کہا کہ ہندوستان طویل عرصے سے فلسطینی عوام کا قابل اعتماد شراکت دار رہا ہے اور وہ دو ریاستی حل کے ساتھ ساتھ فلسطین کی اقوام متحدہ کی رکنیت کی مسلسل حمایت کرتا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق ہندوستان اس مؤقف کی حمایت کرتا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین بین الاقوامی قوانین کے مطابق تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر امن اور سلامتی کے ساتھ دو الگ ریاستوں کی حیثیت سے ساتھ ساتھ رہیں۔ سری پریا رنگناتھن نے فلسطین میں ہندوستان کے ترقیاتی منصوبوں، صلاحیت سازی کے پروگراموں اور انسانی امداد کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کے منصوبے فلسطینی ضروریات کے مطابق ترتیب دیے جاتے ہیں اور ان کا زیادہ تر تعلق صحت، تعلیم، صلاحیت سازی اور فنی تربیت سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی ہندوستان فلسطین میں صحت، خواتین کو بااختیار بنانے اور ادارہ جاتی تعمیر سے متعلق کئی بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے برسلز اجلاس کے دوران فلسطینی عوام کی مدد کے لیے بحالی، صحت، تعلیم اور فنی تربیت سے متعلق کئی نئے منصوبوں کا بھی اعلان کیا۔