ایرانی بحری جہاز پر ’امریکی حملہ‘، کم از کم 87 اموات

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 05-03-2026
ایرانی بحری جہاز پر ’امریکی حملہ‘، کم از کم 87 اموات
ایرانی بحری جہاز پر ’امریکی حملہ‘، کم از کم 87 اموات

 



 تہران' امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب  بدھ کو امریکی محکمہ دفاع نے اعلان کیا کہ ایک امریکی آبدوز نے سری لنکا کے ساحل کے قریب ایک ایرانی جنگی بحری جہاز کو نشانہ بنا کر غرق کر دیا۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ بحیرہ ہند میں کیے گئے اس حملے کو “کوائٹ ڈیتھ” کا نام دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب امریکہ نے کسی دشمن جہاز کو ٹارپیڈو حملے کے ذریعے ڈبویا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس جنگ میں کامیابی کے لیے لڑ رہا ہے۔

دوسری جانب اس واقعے پر ایران کی طرف سے فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

سری لنکن حکام کے مطابق اس حملے میں کم از کم 87 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ درجنوں افراد لاپتہ ہیں۔ پولیس اور دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ 87 لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ مزید 61 افراد کا ابھی تک سراغ نہیں مل سکا۔

سری لنکن بحریہ کے ترجمان کے مطابق جہاز کی جانب سے ہنگامی مدد کی کال موصول ہوئی تھی مگر امدادی کشتیاں پہنچنے سے پہلے ہی جہاز تقریباً ایک گھنٹے کے اندر مکمل طور پر سمندر میں ڈوب گیا۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ اس نے اہم سمندری راستہ آبنائے ہرمز بھی بند کر دیا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پانچویں روز بھی جہاز رانی شدید متاثر ہے اور مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس کی عالمی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس لے جانے والے جہازوں کو انشورنس اور امریکی بحریہ کی سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔