واشنگٹن
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف مجوزہ امریکی فوجی کارروائی کو فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ منگل ۲۰ مئی کو ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں جاری اہم سفارتی مذاکرات کے باعث اِسے عارضی طور پر ملتوی کر دیا گیا۔
پیر کے روز سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ خطے کے کئی اتحادی ممالک کے رہنماؤں کی درخواست پر لیا گیا ہے۔ تاہم اُنہوں نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات کے ذریعے کوئی قابلِ قبول معاہدہ طے نہ پایا تو امریکی فوج کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کے لیے تیار رہے گی۔
ٹرمپ نے حملے کی حکمتِ عملی یا ممکنہ فوجی اہداف کے بارے میں کوئی تفصیلی معلومات نہیں دیں، لیکن اُنہوں نے اشارہ ضرور دیا کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنی فوجی تیاریوں میں کوئی نرمی نہیں کر رہا۔ اُن کے مطابق فوج کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی جا سکتی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ مسلسل ایران کو خبردار کرتے رہے ہیں۔ اُنہوں نے چند روز قبل کہا تھا کہ ’’ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ اگر اُس نے جلد فیصلہ نہ لیا تو اُس کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔‘‘ ٹرمپ کے اِن بیانات کو امریکی دباؤ کی پالیسی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کا مؤقف پہلے کے مقابلے میں زیادہ جارحانہ دکھائی دے رہا ہے، لیکن اِس کے باوجود سفارت کاری کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ خاص طور پر قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اِس معاملے میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اِن ممالک کے رہنماؤں نے اُن سے فوجی کارروائی روکنے کی درخواست کی تھی تاکہ بات چیت کے ذریعے مسئلے کے حل کی امید برقرار رہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو اُس کے براہِ راست اثرات پورے خطے کی سلامتی اور تیل کی رسد پر پڑیں گے۔
اِس دوران ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں بنیامین نیتن یاہو اور شی جن پنگ کے ساتھ بھی ایران کے معاملے پر بات چیت کی ہے۔ اِس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ایران کا مسئلہ اب صرف امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ عالمی سیاست اور سفارت کاری کا ایک بڑا موضوع بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل برقرار ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور علاقائی فوجی سرگرمیوں کو لے کر دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے تنازع جاری ہے۔کئی بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اگر کوئی نیا معاہدہ نہ ہوا تو آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ تاہم فی الحال مذاکرات جاری رہنے کی وجہ سے تصادم ٹلنے کی امید اب بھی برقرار ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی حکمتِ عملی ایک طرف دباؤ بڑھانا اور دوسری جانب مذاکرات کے امکانات کو کھلا رکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے فوجی کارروائی کو روکا بھی ہے اور ساتھ ہی فوج کو تیار رہنے کا حکم بھی دیا ہے۔
فی الحال پوری دنیا کی نظریں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اِس کشیدہ صورتحال پر مرکوز ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ طے ہوگا کہ معاملہ سفارت کاری سے حل ہوگا یا پھر خطہ ایک نئے فوجی بحران کی طرف بڑھ جائے گا۔