واشنگٹن ڈی سی۔ پیر کے روز روس کے تاتارستان خطے کے اندرونی علاقے میں یوکرین کے ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت کم از کم 13 افراد ہلاک جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوگئے۔ سی این این نے مقامی حکام کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔شہر نزنی کامسک میں یوکرین کا ڈرون حملہ 2 سال سے زیادہ عرصے کے دوران روس پر ہونے والا سب سے ہلاکت خیز حملہ ہے۔
ماسکو سے تقریباً 1000 کلومیٹر مشرق میں واقع نزنی کامسک میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس تانییکو آئل ریفائنری موجود ہے جسے یوکرین کی مسلح افواج نے اپنے حملے کا ہدف قرار دیا تھا۔روسی تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق نزنی کامسک میں ہلاک ہونے والوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے جبکہ خطے کی پریس سروس کے مطابق 21 افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
دریں اثنا یوکرین کی سرحد سے متصل روسی خطے بیلگورود میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 4 افراد ہلاک ہوئے۔ خطے کے قائم مقام گورنر الیگزینڈر شیوائیف نے پیر کو یہ اطلاع دی۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے سی این این نے بتایا کہ ان ویڈیوز کی جغرافیائی تصدیق بھی کی گئی ہے۔ ان میں شہر کے باہر ایک علاقے میں شدید آگ بھڑکتی ہوئی اور دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دیے۔ یہ علاقہ بظاہر ایک آئل ریفائنری کے مخصوص ٹاوروں کے قریب واقع ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حملے میں اصل میں کس مقام کو نشانہ بنایا گیا۔
حالیہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب کیف اور ماسکو دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف فضائی حملوں میں شدت پیدا کردی ہے جبکہ جنگ کے محاذ بڑی حد تک جمود کا شکار ہیں۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے سی این این نے رپورٹ کیا کہ جولائی 2022 کے بعد یوکرین کے شہریوں کے لیے سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔ اقوام متحدہ نے حال ہی میں بتایا کہ رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران 1396 افراد ہلاک اور 7978 زخمی ہوئے۔ یہ تعداد 2024 اور 2025 کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
سی این این کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حالیہ مہینوں کے دوران یوکرین کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی ڈرون ٹیکنالوجی میں بہتری آئی ہے۔ یوکرین نے روس کے اندر دور دراز علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو بار بار نشانہ بنانے کی نئی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان اہداف میں آئل ریفائنریز۔ تیل بردار جہاز۔ بجلی کے سب اسٹیشنز اور وسیع تر توانائی کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ روس کی سب سے بڑی آن لائن خوردہ کمپنی وائلڈ بیریز سے متعلق گوداموں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔