کیف: یوکرین کے صدر کے دفتر کے فرسٹ ڈپٹی ہیڈ سرگئی کسلیٹسیا نے یوکرین میں ہندوستان کے سفیر انجنی کمار سے ’’اہم ملاقات‘‘ کی۔ دونوں نے ہندوستان اور یوکرین کے تعلقات کے امکانات سمیت روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں نئی دہلی کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔ کسلیٹسیا نے منگل کو ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ یہ ملاقات صدر کے دفتر کے ڈپٹی ہیڈ اولیکسی سوبولیف کی موجودگی میں ہوئی۔
انہوں نے کہا، ’’میں نے ہندوستان کے سفیر انجنی کمار کے ساتھ اپنے ساتھی اور صدر کے دفتر کے ڈپٹی ہیڈ اولیکسی سوبولیف کے ہمراہ اہم ملاقات کی۔ ہم نے ہندوستان اور یوکرین کے تعلقات کے امکانات سمیت روس کی یوکرین کے خلاف جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں ہندوستان کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔‘‘
کسلیٹسیا نے بتایا کہ ملاقات کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے نام حالیہ پیغام پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جس میں مودی نے کہا تھا کہ ’’اب وقت آگیا ہے کہ مسلسل جاری جنگ سے نکل کر جنگ کے خاتمے کی طرف بڑھا جائے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ہم ہندوستان کے ساتھ مسلسل بات چیت کے خواہاں ہیں اور امن کے لیے اس مشترکہ دلچسپی کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی امید رکھتے ہیں۔‘‘
یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس سے قبل بتایا تھا کہ روس کی جانب سے رات بھر یوکرین پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے 12 افراد میں ایک ہندوستانی شہری بھی شامل ہے۔ زیلنسکی نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’مجموعی طور پر 12 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک ہندوستانی شہری بھی شامل ہے، جبکہ حملے میں درجنوں دیگر افراد زخمی ہوئے۔ اپنے اہل خانہ اور عزیزوں کو کھونے والے تمام لوگوں سے میری تعزیت۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کئی شہروں اور علاقوں میں روسی حملے کے بعد کے حالات سے نمٹنے کا کام گزشتہ رات سے جاری ہے۔ صرف کیف اور اس کے اطراف میں تقریباً 350 امدادی کارکن کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
حملے میں بڑی تعداد میں جیٹ انجن والے ڈرون اور بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔ رہائشی عمارتوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ زیلنسکی کے مطابق بوریسپل میں ایک عام پانچ منزلہ رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا اور 50 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ تمام ضروری خدمات موقع پر موجود ہیں۔ شہر میں کاروباری مراکز بھی حملے کی زد میں آئے۔ مجموعی طور پر شہر میں 4 افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے۔
زیلنسکی کے بیان کے بعد کیف میں ہندوستانی سفارتخانے نے کہا کہ وہ حملے میں ہلاک ہونے والے ہندوستانی شہری کے اہل خانہ سے رابطے میں ہے اور میت کو جلد ہندوستان واپس لانے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے۔ ہندوستانی سفارتخانے نے کہا، ’’یوکرین میں ایک ہندوستانی شہری کی حملے میں المناک موت پر ہمیں گہرا دکھ ہوا ہے۔ سفارتخانہ سوگوار خاندان سے رابطے میں ہے اور اپنی گہری تعزیت پیش کرتا ہے۔‘‘ سفارتخانے نے مزید کہا، ’’ہم میت کو جلد ہندوستان واپس لانے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سفارتخانہ متوفی کی کمپنی اور یوکرینی حکام سے رابطے میں ہے۔‘‘