ابو ظہبی
متحدہ عرب امارات کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ عبداللہ بن زاید نے ایران کی جانب سے امارات پر کیے گئے حملوں کی سخت مذمت کی ہے اور ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ جاں بحق ہونے والوں کا تعلق فلسطین، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال سے تھا۔
بیان میں کہا گیا ko عبداللہ بن زاید النہیان، نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ نے ایران کے بلا اشتعال دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ ان حملوں میں جاں بحق ہونے والوں میں ریاست فلسطین کے علاء نادر عونی، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مریب زمان نثار، مظفر علی غلام اور اسماعیل سلیم خان، عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کے احمد علی اور وفاقی جمہوریہ نیپال کے دیباس شریستھا شامل ہیں۔
وزیرِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ متحدہ عرب امارات اپنے تمام شہریوں، رہائشیوں اور مہمانوں کی سلامتی اور تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے ایران کی جانب سے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی، جو بیان کے مطابق گزشتہ 18 دنوں سے جاری ہیں اور جن میں 2,000 سے زائد بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے اہم شہری تنصیبات، ہوائی اڈوں، رہائشی علاقوں اور دیگر مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔عبداللہ بن زاید نے کہا کہ یہ خطرناک کشیدگی ملک کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے اور علاقائی و عالمی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات ملک بھر میں شہریوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے والی اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کی سخت مذمت کرتا ہے۔ یہ بلا اشتعال حملے، جو دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کے ذریعے عالمی سطح پر مذمت کا سامنا کر چکے ہیں، جس کی حمایت 136 رکن ممالک نے کی ہے۔ اس قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری اور غیر مشروط طور پر خلیجی ممالک اور اردن کے خلاف ان حملوں کو بند کرے اور تمام نقصانات کی مکمل ذمہ داری قبول کرے۔
بیان کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ امارات کے متعلقہ ادارے ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور یہ حملے ملک کو اپنی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ سے نہیں روک سکتے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک میں مجموعی سکیورٹی صورتحال مستحکم ہے اور تیاری کی سطح بلند ترین درجے پر ہے، جس سے یہاں رہنے والوں میں اعتماد اور تحفظ کا احساس برقرار ہے۔
وزیرِ خارجہ نے 130 سے زائد ممالک کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور حمایت کو سراہا، جو عالمی برادری کے امارات پر اعتماد اور اس کے مضبوط سفارتی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
دریں اثنا، مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران آسٹریلیا کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کی صبح ایران کے ایک حملے میں متحدہ عرب امارات کے منہاد ائیر بیس کے ایک حصے کو نشانہ بنایا گیا۔
اگرچہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم تنصیب کو کچھ نقصان پہنچا۔ سرکاری بیان کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں بیس کے آسٹریلوی حصے میں رہائشی بلاک اور طبی سہولت کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔