کییف
روس کی جارحیت کے خاتمے کے لیے جمعرات کو ہونے والے نئے دور کی بات چیت سے قبل، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی سے تبادلۂ خیال کیا۔
صدر زیلینسکی نے مذاکرات میں فعال کردار ادا کرنے پر صدر ٹرمپ اور ان کے خصوصی نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بات چیت کا مرکز آئندہ دوطرفہ ملاقات کا ایجنڈا تھا جو جنیوا میں ہونے والی ہے، نیز مارچ کے اوائل میں متوقع سہ فریقی اجلاس کی تیاریوں پر بھی گفتگو ہوئی۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں یوکرینی صدر نے لکھا كہ میں نے ابھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی۔ صدر ٹرمپ کے نمائندے—اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر—بھی اس کال میں شامل تھے۔ ہماری ٹیمیں بھرپور انداز میں کام کر رہی ہیں، اور میں نے ان کی محنت، مذاکرات میں فعال شمولیت اور جنگ کے خاتمے کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ہم پی یو آر ایل اقدام کو بھی بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ موسمِ سرما یوکرین کے لیے سب سے مشکل رہا ہے، تاہم امریکہ سے حاصل کیے گئے فضائی دفاعی نظاموں کے لیے میزائل ہمیں ان تمام چیلنجز سے نمٹنے اور جانیں بچانے میں مدد دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کا مقصد بات چیت کو قائدین کی سطح تک لے جانا ہے، جو ان کے مطابق پیچیدہ مسائل کے حل اور جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ ہے۔
انہوں نے مزید لکھا كہ ہم نے اُن امور پر گفتگو کی جن پر ہمارے نمائندے کل جنیوا میں ہونے والی دوطرفہ ملاقات کے دوران بات کریں گے، اور مارچ کے بالکل آغاز میں سہ فریقی فارمیٹ میں مکمل مذاکراتی ٹیموں کے اگلے اجلاس کی تیاریوں پر بھی تبادلۂ خیال ہوا۔ ہمیں توقع ہے کہ یہ ملاقات بات چیت کو قائدین کی سطح تک لے جانے کا موقع فراہم کرے گی۔ صدر ٹرمپ اس ترتیبِ اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ تمام پیچیدہ اور حساس مسائل کے حل اور بالآخر جنگ کے خاتمے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ شکریہ!۔
اس سے قبل منگل کو، صدر زیلینسکی نے روس کی جانب سے یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز کو چار سال مکمل ہونے کے موقع پر کہا کہ کییف نے اپنی خودمختاری برقرار رکھی اور ماسکو کے ابتدائی اہداف کو ناکام بنایا۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا كہ آج اس بات کو پورے چار سال ہو گئے ہیں جب ولادیمیر پوتن نے کییف پر قبضہ کرنے کے لیے تین روزہ کارروائی شروع کی تھی۔ یہ ہماری مزاحمت اور اس پورے عرصے میں یوکرین کی جدوجہد کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔