واشنگٹن: ایران کے ساتھ جنگ شروع ہوئے 7 ماہ گزرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نجی طور پر اس بات پر غور کررہے ہیں کہ جنگ ختم ہونے کا اعلان کردیا جائے۔ دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع مغربی ایشیا میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی مدت میں اضافہ کررہا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سے اشارہ ملتا ہے کہ کشیدگی اگلے سال تک بھی جاری رہ سکتی ہے۔یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب منگل کو امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کی ایک نئی لہر شروع ہوئی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بدھ کو بتایا کہ اس نے ایران کے اندر متعدد مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے جواب میں تہران نے خلیج کے مختلف علاقوں میں امریکی مفادات سے منسلک تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کے حالیہ حملوں میں 18 افراد ہلاک جبکہ 142 زخمی ہوئے ہیں۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ نے اپنے اعلیٰ مشیروں کے ساتھ اس امکان پر بات کی ہے کہ آیا ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کا اعلان کیا جائے۔ ٹرمپ ذاتی طور پر اس راستے کی حمایت کررہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ قریب آتے ہوئے وسط مدتی انتخابات ہیں جبکہ جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔امریکی صدر کا مؤقف ہے کہ شدید اقتصادی دباؤ کے نتیجے میں ایران وقت کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام کو ختم کردے گا۔ یہ پیش رفت امریکہ کی جانب سے گزشتہ ہفتے شروع کیے گئے آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس کارروائی کا مقصد تہران کی معیشت کے بنیادی ذرائع کو نشانہ بنانا ہے جن میں تیل جہاز رانی ہوا بازی اور ڈیجیٹل اثاثے شامل ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ جہاں ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور دے رہے ہیں وہیں امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیت مغربی ایشیا میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی مدت خاموشی سے بڑھا رہے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ تنازع اگلے سال تک بھی طول پکڑ سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کا مقصد صدر ٹرمپ کے لیے جنگ میں مختلف آپشنز کھلے رکھنا ہے۔ اخبار نے یہ بات معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتائی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ جھڑپوں کے دوران واشنگٹن نے منگل کو اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے 40 تجارتی جہازوں کو رہنمائی فراہم کی۔ سی این این کے مطابق 2 امریکی حکام نے بتایا کہ جاری جنگ کے دوران ایک ہی کارروائی میں محفوظ کیے جانے والے تجارتی جہازوں کی یہ اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے اطراف ایران کی تقریباً 60 فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔ ان اہداف میں فضائی دفاعی تنصیبات ریڈار نظام بحری بنیادی ڈھانچہ بارودی سرنگیں بچھانے والی تنصیبات اور مواصلاتی نیٹ ورک شامل تھے۔