واشنگٹن ڈی سی:ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں سے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کو طویل جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنا چاہتے ہیں اور آنے والے چند ہفتوں میں اسے ختم کرنے کے خواہاں ہیں۔ یہ انکشاف وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے نجی طور پر اپنے مشیروں کو بتایا کہ ان کے خیال میں یہ تنازع اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور انہوں نے 4 سے 6 ہفتوں کی مدت پر قائم رہنے کی ہدایت دی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مدت مئی کے وسط میں ہونے والی ان کی ملاقات سے پہلے مکمل ہو سکتی ہے جس میں شی جن پنگ بھی شامل ہوں گے۔
ٹرمپ نے ایک تقریب میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے 8 جنگیں ختم کروائیں اور کہا کہ ایران کے معاملے میں بھی وہ یہی کامیابی دہرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن اپنے عوام اور امریکہ دونوں سے خوفزدہ ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کارولین لیویٹ نے کہا کہ ٹرمپ دھمکیاں دینے میں سنجیدہ ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو سخت کارروائی سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی پہلی ترجیح امن ہے، تاہم ایران کو کسی بھی غلط اندازے سے بچنا چاہیے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کی جانب سے بات چیت کی خواہش ظاہر کیے جانے کے بعد امریکہ نے عارضی طور پر ایرانی توانائی اور بجلی کے ڈھانچے پر مجوزہ حملے مؤخر کر دیے ہیں اور گزشتہ دنوں میں دونوں فریقین کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جنگ کا خاتمہ صرف اس کی اپنی شرائط اور وقت کے مطابق ہوگا۔ تہران نے کہا کہ وہ اس وقت تک لڑائی جاری رکھے گا جب تک اس کے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے اور دشمن کو “بھاری نقصان” نہ پہنچا دیا جائے۔