واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کے پاس اسے قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
فنانشل ٹائمز کو ٹیلیفون پر دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ "ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہوگا۔ فیصلے میں کرتا ہوں۔ تمام فیصلے میں ہی کرتا ہوں۔ نیتن یاہو فیصلے نہیں کرتے۔"
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر حالیہ میزائل حملوں کے باوجود ان کی امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کو کامیاب بنانے کی خواہش میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "اس سے معاہدے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔"
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ اپریل کے اوائل میں طے پانے والی جنگ بندی کے بعد یہ ایران کا پہلا میزائل حملہ تھا اور اسے جنگ بندی کی سب سے سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسی روز اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ایران کے میزائل حملوں کے جواب میں فوری جوابی کارروائی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔
ایران کے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل بھر کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ اسرائیلی دفاعی افواج نے تصدیق کی کہ ایران سے اسرائیلی علاقے کی جانب میزائل داغے گئے جنہیں روکنے کے لیے دفاعی نظام فوری طور پر فعال کر دیا گیا۔
اسرائیلی فضائیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ دفاعی نظام خطرے کو ناکام بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں جبکہ متعلقہ علاقوں میں شہریوں کو موبائل فون کے ذریعے حفاظتی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ عوام کو ہدایت دی گئی کہ خبردار کیے جانے پر فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہوں اور نئی ہدایات تک وہیں موجود رہیں۔
یورپی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملے میں اب تک کسی جانی نقصان یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
ادھر اتوار کے روز اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے الضاحیہ علاقے میں موجود مبینہ عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی علاقے پر فائرنگ کے جواب میں کی گئی۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں اور عالمی برادری خطے میں مزید تصادم کے خدشات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔