ٹرمپ کا ایران کے بارے میں لہجہ نرم۔ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا اشارہ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 20-08-2026
ٹرمپ کا ایران کے بارے میں لہجہ نرم۔ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا اشارہ
ٹرمپ کا ایران کے بارے میں لہجہ نرم۔ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا اشارہ

 



واشنگٹن ڈی سی:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ موجودہ صورتحال کو ’’بہت اچھی‘‘ قرار دیتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کسی وقت دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت ہیں دی جائے گی۔

وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں کے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ’’کسی وقت‘‘ دوبارہ ہوسکتے ہیں لیکن فی الحال انہیں صورتحال بہت اچھی نظر آرہی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو مکمل طور پر جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونا ہوگا۔ ان کے مطابق ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اگر اسے یہ ہتھیار حاصل ہوگیا تو وہ اسے استعمال کرسکتا ہے اور امریکہ اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

ٹرمپ کے یہ بیانات واشنگٹن اور تہران کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر جاری کشیدگی کے دوران سامنے آئے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال کے بارے میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کو اس آبی راستے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور کشیدگی کے باوجود تیل کی ترسیل جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات بڑی تعداد میں کشتیاں آبنائے ہرمز سے گزریں۔ ٹرمپ نے ڈرون حملوں کو بعض اوقات پیدا ہونے والی ’’پریشانی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تیل کی ترسیل جاری ہے۔

ٹرمپ کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بڑی مقدار میں تیل عالمی منڈی تک پہنچا ہے اور صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق نہ ہونے کے باوجود تیل کی فراہمی جاری ہے۔

انہوں نے تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی عدم موجودگی کو امریکہ میں بڑھتی ہوئی پیداوار اور متبادل ذرائع سے بھی جوڑا۔ ان کے مطابق ٹیکساس۔ الاسکا اور لوزیانا سمیت امریکی ریاستوں میں تیل کی پیداوار نے عالمی رسد کو سہارا دیا ہے۔

یہ بیان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن کے مطابق امریکی مذاکراتی ٹیم کو ایران کے ساتھ بات چیت اس وقت تک روکنے کی ہدایت دی گئی ہے جب تک تہران کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں ہوجاتا۔

اس سے قبل واشنگٹن اور تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی صورتحال کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ فی الحال کوئی مذاکرات یا بات چیت طے نہیں ہے تاہم انہوں نے آبنائے ہرمز کے کھلے اور فعال ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اس وقت تک آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولے گا جب تک امریکہ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی یقین دہانیاں پوری نہیں کرتا۔ ان مطالبات میں ناکہ بندی ختم کرنا۔ منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنا اور تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔

آبنائے ہرمز بدستور واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مرکزی نقطہ بنا ہوا ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے اس کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مختلف دعوے سامنے آرہے ہیں۔