واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا کہ وینزویلا میں حالیہ آپریشن کے دوران زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں سے رابطہ کیا گیا ہے اور وہ اچھی حالت میں ہیں۔ انہوں نے یہ بات ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ یہ کارروائی امریکی فوج کے ایلیٹ ڈیلٹا فورس نے ایف بی آئی کی ایک یونٹ کی مدد سے انجام دی۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن میں کسی بھی امریکی فوجی کی ہلاکت نہیں ہوئی تاہم چند اہلکار زخمی ہوئے۔ سی این این کے مطابق زخمی اہلکاروں کو گولیوں اور شیل کے ٹکڑوں سے زخم آئے تھے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ تمام زخمیوں کے زخم معمولی نوعیت کے ہیں اور وہ مستحکم حالت میں ہیں اور تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے آپریشن کے بارے میں مزید بتایا کہ کارروائی کے دوران ایک ہیلی کاپٹر کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کو کافی نقصان ہوا لیکن تمام اہلکار بحفاظت واپس آ گئے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
جب صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ اس آپریشن کی قیادت کس نے کی تو صدر نے براہ راست جواب دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سوال کا جواب دینا بہت متنازع ہو سکتا ہے اور بس یہ کہنا کافی ہے کہ ہم ہی ذمہ دار ہیں۔
وینزویلا کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ملک اس وقت تباہ حال ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ صدارتی انتخاب ہار جاتے تو امریکہ کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا۔
انہوں نے وینزویلا کے تیل کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی بڑی تیل کمپنیاں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں اور تیل کی پیداوار بحال کرنا چاہتی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو نہایت بدانتظامی کے ساتھ چلایا گیا ہے اور اسی وجہ سے تیل کی پیداوار انتہائی کم سطح پر آ چکی ہے۔
امریکی حکام نے آپریشن کے مقاصد یا نتائج کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مناسب وقت پر مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔
وینزویلا کی صورتحال پر واشنگٹن کی جانب سے مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے اقدامات امریکی مفادات کے تحفظ اور خطے میں عدم استحکام سے نمٹنے کے لیے ہیں۔