واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران منگل تک امریکہ کے ساتھ معاہدہ نہیں کرتا اور آبنائے ہرمز کو نہیں کھولتا تو اس کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ایران کے ساتھ گہری بات چیت جاری ہے اور معاہدے کا امکان اب بھی موجود ہے۔
ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران میں سب کچھ تباہ کر دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایرانی عوام اپنی حکومت سے خوفزدہ ہیں اور ممکنہ کارروائی کی حمایت کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی سخت پیغام جاری کرتے ہوئے ایران کو فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ بصورت دیگر ایران کے توانائی اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ منگل کا دن ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کے لیے فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ان کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہیں تاہم انہوں نے ایران پر سنجیدگی نہ دکھانے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے ایک حالیہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران کو شمالی ایران سے ملانے والے ایک اہم پل کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جہاں ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب بیانات میں سختی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔