واشنگٹن
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ان کی انتظامیہ ایران کے ساتھ مستقبل میں کوئی معاہدہ کرتی ہے تو اس میں کسی قسم کی مالی رعایت شامل نہیں ہوگی اور یہ سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں طے پانے والے معاہدے سے بالکل مختلف ہوگا۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے اوباما دور کے ایران جوہری معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کا مجوزہ معاہدہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا۔ٹرمپ نے کہا کہ ان کا معاہدہ سابق صدر براک اوباما کے تیار کردہ معاہدے سے یکسر مختلف ہوگا۔
انہوں نے لکھا کہ اگر میں ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتا ہوں تو وہ ایک اچھا اور مناسب معاہدہ ہوگا، اوباما کے اس معاہدے جیسا نہیں جس نے ایران کو بھاری مقدار میں نقد رقم فراہم کی اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا واضح اور کھلا راستہ دیا۔ ہمارا معاہدہ اس کے بالکل برعکس ہوگا، لیکن ابھی تک کسی نے اسے دیکھا نہیں اور نہ ہی کوئی جانتا ہے کہ اس میں کیا ہوگا۔ ابھی تو اس پر مکمل مذاکرات بھی نہیں ہوئے ہیں۔ اس لیے ان لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھریں جو ایسی چیز پر تنقید کر رہے ہیں جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے۔ مجھ سے پہلے جو لوگ تھے انہیں یہ مسئلہ برسوں پہلے حل کر لینا چاہیے تھا، لیکن میں خراب معاہدے نہیں کرتا۔
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے بھی ٹرمپ کے مجوزہ معاہدے کی حمایت کا اشارہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کے ساتھ کسی بھی طویل مدتی معاہدے کو ابراہیم معاہدوں کی بڑے پیمانے پر توسیع سے جوڑا جانا چاہیے۔ایکس پر ایک پوسٹ میں گراہم نے کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ابھرتی ہوئی ایران پالیسی کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ کسی بھی مستقل معاہدے میں سعودی عرب اور دیگر اہم مسلم ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ ان کی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت اور ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں حتمی معاہدے کے لیے آئندہ مذاکرات پر بات چیت ہوئی ہے۔
ایکس پر جاری ایک بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ میں نے گزشتہ رات صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مفاہمتی یادداشت اور ایران کے جوہری پروگرام کے حتمی معاہدے کے لیے آئندہ مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کی۔ میں نے صدر ٹرمپ کا اسرائیل کی سلامتی کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، خاص طور پر آپریشن ’رورنگ لائن‘ اور ’ایپک فیوری‘ کے دوران، جب امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران کے خطرے کے خلاف شانہ بشانہ لڑائی لڑی۔