ٹرمپ نے وینزویلا کے زلزلے کے لیے امریکی امداد کا وعدہ کیا

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 25-06-2026
ٹرمپ نے وینزویلا کے زلزلے کے لیے امریکی امداد کا وعدہ کیا
ٹرمپ نے وینزویلا کے زلزلے کے لیے امریکی امداد کا وعدہ کیا

 



واشنگٹن
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز (مقامی وقت کے مطابق) وینزویلا میں آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے بعد فوری امریکی امداد کی پیشکش کی ہے۔ دوسری جانب امریکی سرکاری ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس قدرتی آفت میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے 1 لاکھ کے درمیان ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وینزویلا کے عظیم عوام کو متاثر کرنے والے یہ دونوں بڑے زلزلے انتہائی شدید نوعیت کے ہیں اور ان کے نتیجے میں بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں۔ امریکہ مدد کے لیے پوری طرح تیار ہے، خواہشمند ہے اور اس کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ میں نے اپنی حکومت کے تمام اداروں کو فوری کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دے دی ہے۔ ہم اپنے نئے اور عظیم دوستوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ابتدائی اطلاعات اچھی نہیں ہیں!!!۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب زلزلوں کے پانچ گھنٹے سے زائد گزر جانے کے باوجود وینزویلا کی حکومت نے جانی نقصان کے بارے میں بہت کم تفصیلات جاری کی ہیں۔ قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں ہلاکتوں کی تصدیق تو کی، لیکن سرکاری طور پر مرنے والوں کی تعداد نہیں بتائی۔ سرکاری میڈیا نے بھی تباہی کے حجم کے بارے میں محدود معلومات فراہم کی ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق، امریکی ارضیاتی سروے (یو ایس جی ایس) نے اپنے پیجر (پروَمپٹ اسیسمنٹ آف گلوبل ارتھ کوئیک ریسپانس) نظام کے ذریعے ابتدائی اندازہ لگایا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے 1 لاکھ کے درمیان ہو سکتی ہے۔واشن رائٹ، جو یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو میں جیو فزکس کے ماہر ہیں، نے الجزیرہ کو بتایا کہ پیجر نظام زلزلے کی شدت، گہرائی، مقام، آبادی کی کثافت، ماضی کے زلزلوں کے اعداد و شمار اور عمارتوں کی ساخت سمیت متعدد عوامل کا فوری تجزیہ کرکے ممکنہ نقصان کا اندازہ لگاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ نظام زلزلے کی شدت، گہرائی، مقام، آبادی کی کثافت، تاریخی زلزلوں اور عمارتوں کے ڈیٹا سمیت دستیاب تمام معلومات کو استعمال کرتے ہوئے یہ پیش گوئی کرتا ہے کہ کیا نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔رائٹ کے مطابق، کئی مواقع پر پیجر کے اندازے حقیقی جانی نقصان کے کافی قریب ثابت ہوتے ہیں۔
ادھر امریکہ نے وینزویلا کے لیے ہنگامی امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ غیر ملکی امداد کے نائب وزیر جیریمی لیون نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ڈیزاسٹر اسسٹنس ٹیم اور ٹاسک فورس پہلے ہی متحرک کر دی گئی ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے وینزویلا کے عوام کو اہم امداد پہنچانے اور اس کی ہم آہنگی کے لیے ایک ڈیزاسٹر اسسٹنس ٹیم اور ٹاسک فورس متحرک کر دی ہے۔ عبوری وینزویلا حکومت کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر امریکہ تلاش و بچاؤ کی ٹیمیں، طبی امداد، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سامان اور دیگر ضروری وسائل روانہ کرے گا تاکہ اس المناک قدرتی آفت کے ابتدائی دنوں میں متاثرین کی مدد کی جا سکے۔
سی این این کے مطابق، امدادی ٹیمیں منہدم عمارتوں اور تباہ شدہ ڈھانچوں کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے تعینات کر دی گئی ہیں۔وینزویلا کا دارالحکومت کاراکاس بدھ کی شام آنے والے دو شدید زلزلوں سے لرز اٹھا، جس کے نتیجے میں متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں۔
امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق پہلا زلزلہ 7.2 شدت کا تھا، جو سان فیلیپے کے قریب آیا۔ یہ مقام کاراکاس سے تقریباً 284 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ زلزلہ 22:04 جی ایم ٹی پر ریکارڈ کیا گیا۔
اس کے فوراً بعد دوسرا اور زیادہ طاقتور 7.5 شدت کا زلزلہ یومارے کے قریب آیا، جو دارالحکومت سے تقریباً 293 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔امریکی ارضیاتی سروے نے خبردار کیا ہے کہ بڑی تعداد میں ہلاکتوں اور وسیع پیمانے پر تباہی کا خدشہ ہے، اور امکان ہے کہ یہ آفت بڑے علاقے کو متاثر کرے گی۔قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ توجہ فرمائیں: میں جلد ہی وینزویلا کے عوام سے خطاب کروں گی تاکہ ملک کو متاثر کرنے والے شدید زلزلے کے بعد کی صورتحال سے آگاہ کر سکوں۔
دوسری جانب قومی مرکز برائے زلزلہ پیما تحقیق (این سی ایس) کے مطابق زلزلہ زمین کی سطح سے صرف 15 کلومیٹر گہرائی میں آیا، جس کی وجہ سے اس کے اثرات مزید شدید محسوس کیے گئے۔
این سی ایس نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ شدت: 6.8، تاریخ: 25 جون 2026، وقت: 03:34:32 (ہندوستانی معیاری وقت)، عرض البلد: 10.451 شمال، طول البلد: 68.352 مغرب، گہرائی: 15 کلومیٹر، مقام: وینزویلا۔