میرٹل بیچ (جنوبی کیرولائنا): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان انہوں نے آبنائے ہرمز کو ’’امریکی علاقہ‘‘ بھی قرار دیا۔
جنوبی کیرولائنا کے شہر میرٹل بیچ میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ضروری ہے، ورنہ ’’بہت بری چیزیں‘‘ دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کو روک دیا ہے اور ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم واشنگٹن کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ معاہدہ قبول کرنا چاہتا بھی ہے یا نہیں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کے بارے میں کہا، ’’میں اس وقت آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ سمجھتا ہوں، یہ امریکی علاقہ ہے۔‘‘
اس سے قبل جوائنٹ بیس اینڈریوز سے میرٹل بیچ روانگی کے وقت صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر ’’مکمل کنٹرول‘‘ حاصل ہے۔ انہوں نے اس اہم آبی گزرگاہ کو امریکی علاقہ قرار دینے کی تجویز کی حمایت بھی کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن ان کے بقول وہ ’’صحیح معاہدے‘‘ کے لیے ابھی تیار نہیں ہے۔ ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی سپلائی کے ایک بڑے حصے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
ٹرمپ نے حال ہی میں اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک تصویر بھی شیئر کی تھی، جس میں آبنائے ہرمز کو ’’نیا امریکی علاقہ‘‘ دکھایا گیا تھا۔
ایران نے ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی صدر کا ’’وہم‘‘ یا تو حالات درست کریں گے یا ایران اسے درست کرے گا۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے بھی ٹرمپ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں امریکا کی ناکامی اور اس پر ملکیت کے دعوے کے درمیان بہت بڑا تضاد ہے۔
دریں اثنا، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے 14 نکاتی مفاہمت کی یادداشت میں کیے گئے وعدوں کی تکمیل تک تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا۔ ان مطالبات میں ناکہ بندی ختم کرنا، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنا اور تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔ (اے این آئی)