وائٹ ہاؤس عشائیے میں فائرنگ کے بعد ٹرمپ کا "بیمار" حملہ آور پر سخت ردعمل

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 27-04-2026
وائٹ ہاؤس عشائیے میں فائرنگ کے بعد ٹرمپ کا
وائٹ ہاؤس عشائیے میں فائرنگ کے بعد ٹرمپ کا "بیمار" حملہ آور پر سخت ردعمل

 



 واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس صحافیوں کے عشائیے میں فائرنگ کے واقعے کے بعد مشتبہ حملہ آور کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "بیمار ذہنیت کا حامل شخص" قرار دیا اور اس کے مبینہ منشور میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا۔

یہ واقعہ واشنگٹن کی ایک اہم سماجی تقریب کے دوران پیش آیا جہاں 31 سالہ مشتبہ شخص کول ٹوماس ایلن نے سکیورٹی حصار توڑنے اور فائرنگ کرنے کی کوشش کی تاہم امریکی سیکرٹ سروس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے قابو کر لیا۔

ایک انٹرویو کے دوران جب حملہ آور کے منشور کے اقتباسات صدر کے سامنے پڑھے گئے تو وہ برہم ہو گئے۔ اس دستاویز میں مبینہ طور پر حکومتی اہلکاروں پر سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ صدر ٹرمپ نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بے بنیاد ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان پر لگائے گئے الزامات غلط ہیں اور انہیں پہلے ہی تمام معاملات میں بری قرار دیا جا چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ توجہ اصل مسئلے یعنی حملہ آور کے عمل اور اس کی ذہنی کیفیت پر ہونی چاہیے۔

ادھر قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم ممکنہ طور پر ٹرمپ انتظامیہ کے افراد کو نشانہ بنانا چاہتا تھا تاہم واقعے کے اصل محرکات کا تعین ابھی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تفتیش کار ملزم کے الیکٹرانک آلات، سفری ریکارڈ اور ذاتی روابط کا جائزہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے سکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اہلکاروں نے فوری اور مؤثر کارروائی کر کے ممکنہ بڑے نقصان کو ٹال دیا۔

یہ واقعہ اس سالانہ تقریب کے دوران پیش آیا جس میں نائب صدر جے ڈی وینس اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ سمیت اعلیٰ حکام اور صحافی شریک تھے۔ حکام کے مطابق تمام اہم شخصیات محفوظ رہیں تاہم ایک سکیورٹی اہلکار زخمی ہوا جس کی حالت اب بہتر بتائی جا رہی ہے۔