نئی دہلی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز سینیٹ میں ریپبلکن ارکانِ کانگریس کو ایران جنگ روکنے سے متعلق ایک قرارداد کے حق میں ووٹ دینے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔فلوریڈا سے سینیٹر رک اسکاٹ کی دعوت پر ٹرمپ کیپیٹل ہِل (امریکی پارلیمنٹ کی عمارت) میں ریپبلکن قانون سازوں کے دوپہر کے ظہرانے میں شریک ہوئے۔ اجلاس سے قبل ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ بند کمرے میں ہونے والی اس ملاقات میں شہریت کی تصدیق سے متعلق ایک بل کے حق میں ووٹ دینے کے لیے ارکان پر دباؤ ڈالیں گے۔
تاہم، اجلاس کے دوران زیادہ تر گفتگو منگل کو منظور کی گئی وار پاورز ریزولوشن (جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد) کے گرد ہی گھومتی رہی۔ٹرمپ نے خاص طور پر ان چار ریپبلکن سینیٹروں کو نشانہ بنایا جنہوں نے اس قرارداد پر ڈیموکریٹ ارکان کا ساتھ دیا تھا۔ ان میں لیزا مرکوسکی (الاسکا)، سوسن کولنز (مین)، رینڈ پال (کینٹکی) اور بل کیسیڈی (لوزیانا) شامل ہیں۔
اس سے قبل ٹرمپ سوشل میڈیا پر ان قانون سازوں کو "ناکام" قرار دے چکے تھے۔اجلاس کے دوران بیشتر ریپبلکن ارکان خاموش رہے، تاہم بل کیسیڈی کھڑے ہوئے اور اپنے ووٹ کا دفاع کیا۔ کیسیڈی گزشتہ ماہ اپنی جماعت کے ابتدائی انتخابی مقابلے میں شکست کھا چکے تھے، جہاں ٹرمپ نے ان کے حریف کی حمایت کی تھی۔
اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیسیڈی نے کہا کہ میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا کہ آپ نے امریکی عوام کو یہ نہیں بتایا کہ حقیقت میں کیا ہو رہا ہے۔ یہ مہم چار ہفتوں تک چلنی تھی، لیکن اب اسے چار ماہ ہو چکے ہیں۔ ہمارے بنیادی مقاصد اب تک حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔