اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کا وقت آگیا: جلاوطن شہزادہ رضا پہلوی کی ٹرمپ سے ایرانی عوام کی مدد کی اپیل

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 16-02-2026
اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کا وقت آگیا: جلاوطن شہزادہ رضا پہلوی کی ٹرمپ سے ایرانی عوام کی مدد کی اپیل
اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کا وقت آگیا: جلاوطن شہزادہ رضا پہلوی کی ٹرمپ سے ایرانی عوام کی مدد کی اپیل

 



  میونخ: ایران کے آخری شاہ کے جلا وطن بیٹے رضا پہلوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی عوام کی موجودہ حکومت کے خاتمے میں مدد کریں اور کہا کہ اب اسلامی جمہوریہ کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق میونخ سکیورٹی کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رضا پہلوی نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ اپنی حمایت کے وعدوں کو عملی جامہ پہنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام نے آپ کو یہ کہتے سنا ہے کہ مدد راستے میں ہے اور انہیں آپ پر بھروسا ہے لہٰذا ان کی مدد کیجیے۔

رضا پہلوی نے ملک کے اندر اور بیرون ملک مقیم ایرانیوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے خلاف احتجاج جاری رکھیں۔ انہوں نے شہریوں کو دعوت دی کہ وہ ہفتہ اور اتوار کی رات 8 بجے اپنے گھروں اور چھتوں سے نعرے بلند کریں تاکہ جرمنی اور دیگر مقامات پر ہونے والے مظاہروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ 14 اور 15 فروری کی شام 8 بجے اپنی آواز بلند کریں اپنے مطالبات دہرائیں اور اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ غیر متزلزل عزم کے ساتھ اس حکومت پر غلبہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

رضا پہلوی نے زور دیا کہ فیصلہ کن تبدیلی کا وقت آ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے ہم وطنوں کے خون سے جو آواز بلند ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ نظام کی اصلاح نہیں بلکہ اس کے خاتمے میں مدد دی جائے۔

ان کا بیان ایک دن بعد سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی سب سے بہتر بات ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کا حکم بھی دیا تاکہ تہران پر عسکری دباؤ بڑھایا جا سکے۔ اس سے قبل وہ ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کی حمایت میں ممکنہ فوجی مداخلت کا عندیہ بھی دے چکے ہیں۔ یہ مظاہرے جنوری میں عروج پر پہنچے تھے تاہم بعد ازاں سکیورٹی فورسز کی سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق ہلاکتوں کی تصدیق شدہ تعداد 7 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جن میں 214 سرکاری اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

رضا پہلوی 1979 کے اسلامی انقلاب سے قبل ہی ایران چھوڑ چکے تھے اور تب سے بیرون ملک مقیم ہیں۔ وہ مسلسل احتجاجی تحریک کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ ایرانی حکام ان مظاہروں کو امریکہ اور اسرائیل کی پشت پناہی سے چلنے والے عناصر کی کارروائی قرار دیتے ہیں۔

65 سالہ اپوزیشن رہنما نے جمہوری منتقلی کی قیادت کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ کئی مظاہرین بادشاہت کی بحالی کے نعرے بھی لگا رہے ہیں۔ تاہم ایرانی اپوزیشن منتشر ہے اور اسرائیل کے لیے ان کی کھلی حمایت بشمول 2023 کے دورے پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس سے مختلف اپوزیشن گروہوں کو متحد کرنے کی کوششیں متاثر ہوئیں۔ وہ اپنے والد کے آمرانہ طرز حکمرانی سے بھی واضح لاتعلقی اختیار نہیں کر سکے ہیں۔