سوڈان جنگ، چھ ماہ میں 300 بچے ہلاک

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 06-07-2026
سوڈان جنگ، چھ ماہ میں 300 بچے ہلاک
سوڈان جنگ، چھ ماہ میں 300 بچے ہلاک

 



قاہرہ: اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے پیر کو کہا کہ سوڈان میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران جنگ کے نتیجے میں 300 سے زائد بچے ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر ڈرون حملوں کا شکار بنے۔ سوڈان اپریل 2023 سے ملکی فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جاری جنگ کی لپیٹ میں ہے۔

یونیسیف کے مطابق اس وقت لڑائی زیادہ تر کردفان، دارفور اور نیلِ ازرق (بلو نائل) کی ریاستوں میں جاری ہے، جہاں ڈرون حملے مجموعی جانی نقصانات کے تقریباً 60 فیصد کے ذمہ دار ہیں۔ اقوام متحدہ، امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک نے شمالی کردفان کے اہم شہر الابیض پر قبضے کے لیے آر ایس ایف اور فوج کے درمیان جاری لڑائی کے باعث ممکنہ سنگین مظالم پر تشویش ظاہر کی ہے۔

پیر کو جنیوا میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ انسانی حقوق کونسل نے پانچ یورپی ممالک کی جانب سے پیش کی گئی ایک قرارداد کو بغیر ووٹنگ کے منظور کیا، جس میں الابیض اور اس کے اطراف آر ایس ایف اور اس کے اتحادیوں کی بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کی گئی۔ قرارداد میں سوڈانی پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے ممالک کی زیادہ مدد کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور جنگ میں ہر قسم کی بیرونی مداخلت کی بھی مذمت کی گئی ہے۔

اس تنازع میں اب تک کم از کم 59 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں اور سوڈان کے کئی علاقے قحط کا شکار ہو گئے ہیں۔ 3 کروڑ سے زائد افراد انسانی امداد کے محتاج ہیں۔ ڈرون حملوں اور گولہ باری میں اسکولوں، بازاروں، ایندھن کے ذخائر اور پانی کی تنصیبات سمیت شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے باعث پانچ لاکھ سے زیادہ افراد خطرے میں ہیں۔

شہری گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے تقریباً محاصرے جیسی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ سوڈان میں یونیسیف کے نمائندے شیلڈن ییٹ نے کہا، ’’بچے مسلسل تشدد، بے گھری اور محرومی کے نہ ختم ہونے والے چکر میں پھنس گئے ہیں۔‘‘ اقوام متحدہ نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کا تحفظ کریں، انسانی امداد کی محفوظ، فوری اور بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنائیں اور بچوں کو نقصان سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں۔