نئی دہلی
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور جاپان کو ہند-بحرالکاہل خطے کی سب سے بڑی جمہوری اور مارکیٹ معیشتیں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک نے پورے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کی راہ ہموار کرنے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔
جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کے ساتھ مشترکہ پریس بیان سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے حالیہ جی-7 سربراہی اجلاس میں اپنے اس بیان کا حوالہ دیا کہ موجودہ عالمی بے یقینی اور بحران کے دور میں باہمی اعتماد سب سے بڑی طاقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ ہندوستان-جاپان شراکت داری اس کسوٹی پر پوری اترتی ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں آٹوموبائل سے لے کر الیکٹرانکس تک، جاپان نے ہندوستان کی ترقی کی داستان میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر کردار ادا کیا ہے اور دوستی و اعتماد کا ایک بے مثال سرمایہ قائم کیا ہے۔ آج وزیر اعظم تاکائیچی کے دورۂ ہندوستان کے ساتھ، ہم اپنی خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کے ایک نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں۔
دفاعی شعبے میں تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ دونوں ممالک نے پہلے مشترکہ دفاعی ترقیاتی منصوبے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیول ریڈیو اینٹینا 'یونیکورن' منصوبہ ہماری دفاعی ٹیکنالوجی شراکت داری میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔ اب ہم مشترکہ طور پر ایسی دفاعی ٹیکنالوجیز تیار کریں گے جو علاقائی امن، سمندری سلامتی اور اصولوں پر مبنی عالمی نظام کو مضبوط بنائیں گی۔ہندوستان اور جاپان کے درمیان صدیوں پر محیط ثقافتی و تہذیبی روابط، روحانی ہم آہنگی اور آزادی، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی جیسے مشترکہ اقدار پر مبنی دیرینہ دوستی قائم ہے۔
دونوں ممالک کے تعلقات کو 2014 میں "خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری" کا درجہ دیا گیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات 1952 میں قائم ہوئے، 2000 میں انہیں "عالمی شراکت داری"، 2006 میں "اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری" اور 2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی اور سابق جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے کے درمیان سربراہی اجلاس کے دوران "خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری" تک وسعت دی گئی۔