آبنائے ہرمز :میزائل حملے کے بعد جہاز میں آگ۔ عملہ محفوظ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 20-07-2026
آبنائے ہرمز :میزائل حملے کے بعد جہاز میں آگ۔ عملہ محفوظ
آبنائے ہرمز :میزائل حملے کے بعد جہاز میں آگ۔ عملہ محفوظ

 



لندن: آبنائے ہرمز میں پیر کے روز ایک تجارتی جہاز پر میزائل حملے کے بعد آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں جہاز کے تمام عملے کو ہنگامی طور پر نکال لیا گیا۔برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جہاز کے عملے نے بحفاظت جہاز چھوڑ دیا اور انہیں ایک ٹگ بوٹ کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

ادارے کے مطابق یہ حملہ عمان کے علاقے کمزار سے تقریباً 15 کلومیٹر شمال مغرب میں پیش آیا۔یو کے ایم ٹی او نے کہا کہ آگ اب تک نہیں بجھائی جا سکی ہے اور جہاز بغیر عملے کے سمندر میں بہہ رہا ہے۔ ادارے نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کو احتیاط برتنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے جبکہ متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ حملہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پیش آیا ہے۔ امریکی فوج نے تجارتی جہازوں کو عمان کے ساحل کے قریب سے گزرنے کا مشورہ دیا تھا جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول برقرار رہنا چاہیے۔ امن کے زمانے میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت اسی اہم بحری راستے سے ہوتی رہی ہے۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد امریکہ نے پیر کی صبح ایران پر مزید فضائی حملے کیے جبکہ ایران نے بھی جوابی کارروائیاں جاری رکھیں۔

امریکی فوج کے مطابق عراق میں ہفتے کے روز گرائے گئے ایک ایرانی ڈرون کو ناکارہ بنانے کی کارروائی کے دوران ایک اور امریکی فوجی ہلاک ہوا۔ اس کے بعد موجودہ کشیدگی میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔

مریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری رہیں گی جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری ملاحوں پر حملوں کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔دوسری جانب ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کے پیش نظر کویت۔ بحرین اور اردن کے فضائی دفاعی نظام بھی متحرک رہے۔ اسرائیل نے بھی خبردار کیا ہے کہ اردن کی جانب داغے گئے میزائل خطے میں تنازع کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔