ایویان، فرانس: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو جی سیون ممالک کے رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے حالیہ امریکی فوجی کارروائی میں ہندستانی ملاحوں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی ان کے برابر میں موجود تھے۔
وزیر اعظم نے آبنائے ہرمز میں عدم استحکام کے انسانی اور معاشی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے بین الاقوامی سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ پر زور دیا۔
مودی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں میں ہونے والی پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ تاہم اس تنازع نے خطے کے دوست ممالک میں جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے سمندری تجارت میں رکاوٹوں نے عالمی معیشت کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی ہندستانی شہری بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ عالمی سمندری تجارت کے ذریعے ممالک کو آپس میں جوڑنے والے ملاحوں کا تحفظ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
وزیر اعظم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ سمندری راستے محفوظ رہیں اور ملاح خوف کے بغیر اپنے فرائض انجام دے سکیں۔
فرانس کے شہر ایویان میں "نئی شراکت داریاں قائم کرنے اور عالمی یکجہتی کی بحالی" کے موضوع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے یہ بات ایسے وقت کہی جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی اور تجارتی سامان کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی اہم بحری گزرگاہیں خطرات سے دوچار ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جو خلیج فارس کو بین الاقوامی سمندری راستوں سے جوڑتی ہے۔
مودی کا یہ بیان خلیج عمان میں پیش آنے والے ایک حالیہ واقعے کے بعد سامنے آیا جس میں پالاؤ کے پرچم بردار آئل ٹینکر سیٹیبیلو پر امریکی کارروائی کے نتیجے میں تین ہندستانی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
اس جہاز پر 28 افراد پر مشتمل عملہ موجود تھا جن میں 24 ہندستانی، 2 پاکستانی، ایک یوکرینی اور ایک روسی شہری شامل تھے۔ امریکی حکام کے مطابق جہاز مبینہ طور پر ایرانی تیل لے جا رہا تھا اور امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں اسے نشانہ بنایا گیا۔
سیٹیبیلو ان تین تجارتی جہازوں میں شامل ہے جن پر حالیہ علاقائی بحری واقعات کے دوران ہندستانی عملے کے ارکان موجود تھے۔