کیف [یوکرین]: یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے جمعرات کے روز روس کی جانب سے مختصر مدتی جنگ بندی کی تجویز کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ہونے والی حالیہ ٹیلی فونک گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین ایک طویل المدتی جنگ بندی چاہتا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک پوسٹ میں کہا: "میں نے ہماری نمائندہ ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ امریکہ کے صدر کی ٹیم سے رابطہ کرے اور روس کی مختصر مدتی جنگ بندی کی تجویز کی تفصیلات واضح کرے۔ یوکرین امن چاہتا ہے اور اس جنگ کو حقیقی طور پر ختم کرنے کے لیے ضروری سفارتی کام کر رہا ہے۔ ہم یہ واضح کریں گے کہ یہ کس بارے میں ہےکیا یہ ماسکو میں کسی پریڈ کے لیے چند گھنٹوں کی سلامتی ہے یا کچھ اور۔ ہماری تجویز ایک طویل المدتی جنگ بندی، لوگوں کے لیے قابل اعتماد اور ضمانت شدہ سلامتی، اور پائیدار امن ہے۔ یوکرین اس مقصد کے لیے کسی بھی باوقار اور مؤثر فارمیٹ میں کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
پوتن اور ٹرمپ کے درمیان 29 اپریل کو ٹیلی فونک گفتگو ہوئی تھی۔ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان تنازع میں ممکنہ جنگ بندی کے اشارے دیے، جبکہ ایران کے جوہری عزائم کے حوالے سے سخت مؤقف برقرار رکھا۔ امریکی صدر کے بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ روس مناسب حالات میں کسی معاہدے کی طرف بڑھنے کے لیے تیار ہے، جبکہ امریکی انتظامیہ اپنی فوجی اور سفارتی طاقت کے ذریعے عالمی سلامتی کی صورتحال کو نئی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ممکنہ طور پر لڑائی روکنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ اگرچہ اب بھی بنیادی تنازع ہے، لیکن کریملن کے رویے میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق پوتن نے "جزوی جنگ بندی" کی تجویز دی ہے اور ممکن ہے کہ ماسکو جلد کوئی باضابطہ اعلان کرے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں پوتن کافی عرصہ پہلے معاہدہ کرنے کے لیے تیار تھے، لیکن بیرونی اثرات نے انہیں رکاوٹ ڈالی۔