کیف: روس نے پیر کی علی الصبح یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ کیا۔ یہ حملہ ترکی میں ہونے والے اہم نیٹو سربراہی اجلاس سے ایک روز قبل کیا گیا، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت متوقع ہے۔
سی این این کے مطابق، یوکرین کی فضائیہ نے بتایا کہ حملے میں بیلسٹک میزائل، ڈرون اور کروز میزائل استعمال کیے گئے۔ حملے کے دوران علی الصبح وسطی کیف میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔کیف کے میئر ویٹالی کلچکو نے بتایا کہ شہر کے کم از کم دو اضلاع میں گرنے والے ملبے کے باعث آگ بھڑک اٹھی اور کئی مقامات پر نقصان پہنچا۔ دھماکوں سے کچھ دیر قبل پورے دارالحکومت میں فضائی حملے کے سائرن بجا دیے گئے تھے۔
یہ تازہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے اتوار کو خبردار کیا تھا کہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق روس "ایک نئے بڑے حملے کی تیاری" کر رہا ہے۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، "انٹیلی جنس ایک بار پھر اشارہ دے رہی ہے کہ روس ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ پوٹن کا روایتی طریقہ ہے کہ امریکہ کے یومِ آزادی کے فوراً بعد اور انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے پہلے مزید تباہی پھیلائی جائے اور لوگوں کو نشانہ بنایا جائے۔"
یہ حملہ گزشتہ جمعرات کو کیف پر ہونے والے روسی حملے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ جنگ کے آغاز سے اب تک کیف پر ہونے والا تیسرا سب سے مہلک حملہ تھا۔
منگل سے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں شروع ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں روس۔یوکرین جنگ مرکزی موضوع رہے گی۔ روسی افواج مشرقی یوکرین کے دونیٹسک علاقے میں مزید علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوششیں تیز کر رہی ہیں، جبکہ یوکرین بھی روس کے اندر آئل ریفائنریوں، بندرگاہوں اور فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے بڑھا رہا ہے۔
سی این این کے مطابق، 4 جولائی کو روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تقریباً 90 منٹ تک ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی تھی۔ روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق، اس دوران ٹرمپ نے ایک بار پھر یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے تعاون کی پیشکش کی۔