واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کے سالانہ عشائیے میں فائرنگ کے واقعے میں ملوث مشتبہ شخص کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ "عیسائیت مخالف جذبات" سے متاثر تھا اور اس کے اقدام کے پیچھے مذہبی محرکات کارفرما تھے۔
ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ملزم کے دل میں طویل عرصے سے نفرت موجود تھی اور ابتدائی معلومات کے مطابق اس کا رجحان واضح طور پر عیسائیت کے خلاف تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اس کا مبینہ منشور پڑھا جائے تو اس کی ذہنی کیفیت اور خیالات کا اندازہ ہوتا ہے اور وہ ایک پریشان حال شخص دکھائی دیتا ہے۔ صدر نے مزید کہا کہ ملزم کے قریبی رشتہ داروں نے بھی اس کے رویے پر تشویش ظاہر کی تھی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس حوالے سے آگاہ کیا تھا۔
یہ بیان اس واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں واشنگٹن میں ہونے والے وائٹ ہاؤس صحافیوں کے عشائیے کے دوران فائرنگ سے ہلچل مچ گئی تھی۔ اس تقریب میں اعلیٰ سیاسی رہنما، صحافی اور سرکاری حکام شریک تھے۔ حکام کے مطابق صدر ٹرمپ، خاتون اول میلانیا ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کو بحفاظت نکال لیا گیا جبکہ ایک سکیورٹی اہلکار زخمی ہوا۔
وائٹ ہاؤس صحافیوں کی تنظیم کی صدر ویجیا جیانگ نے اس واقعے کو نہایت خوفناک قرار دیتے ہوئے امریکی سیکرٹ سروس اور دیگر سکیورٹی اداروں کی فوری کارروائی کو سراہا اور زخمی اہلکار کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ادھر قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم ممکنہ طور پر ٹرمپ انتظامیہ کے ارکان کو نشانہ بنانا چاہتا تھا تاہم اصل محرکات کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کے مطابق 31 سالہ مشتبہ شخص کول ٹوماس ایلن کو حراست میں لے لیا گیا ہے جس نے مبینہ طور پر سکیورٹی چیک پوائنٹ توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کی اور فائرنگ کی، تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے اسے قابو کر لیا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں نیٹو پر بھی تنقید دہرائی اور کہا کہ امریکہ اس اتحاد پر بھاری اخراجات کرتا ہے جبکہ دیگر ممالک مطلوبہ تعاون فراہم نہیں کرتے۔