بیجنگ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان جمعرات کو ایک اہم دو طرفہ ملاقات کا آغاز ہوا جس پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔ ملاقات کے آغاز پر ٹرمپ نے شی جن پنگ کو “عظیم رہنما” قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کے مستقبل کے بارے میں امید کا اظہار کیا۔
ٹرمپ نے اپنے اور اپنے وفد کے شاندار استقبال پر چینی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسا اعزاز بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ انہوں نے استقبالیہ تقریب میں شریک بچوں کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان سے بے حد متاثر ہوئے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ان کے اور شی جن پنگ کے درمیان طویل عرصے سے دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور جب بھی دونوں ممالک کے درمیان کوئی مشکل پیش آئی تو براہ راست رابطے کے ذریعے اسے جلد حل کر لیا گیا۔
ٹرمپ نے شی جن پنگ کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ چین کے لیے ان کی خدمات قابل احترام ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے وفد میں شامل بڑے امریکی کاروباری رہنما چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہش مند ہیں۔
انہوں نے اس ملاقات کو ممکنہ طور پر تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں اس سربراہی ملاقات کو غیر معمولی توجہ حاصل ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر ٹرمپ نے کہا کہ چین اور امریکہ کے تعلقات پہلے سے بھی بہتر ہونے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ میں شی جن پنگ سے ملاقات کی جہاں گریٹ ہال آف دی پیپل میں ان کا باقاعدہ استقبال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا جس کے بعد ٹرمپ نے چینی کابینہ کے اراکین سے بھی ملاقات کی۔