پاجو
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو امجنگاک پیس پارک میں منعقدہ ایک یادگاری تقریب میں شرکت کی، جہاں کوریا جنگ کے دوران خدمات انجام دینے والے ہندوستانی فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔راج ناتھ سنگھ کا یادگار مقام پر کوون اوہ-یول نے استقبال کیا۔ انہوں نے ایک تصویری نمائش کا بھی دورہ کیا جس میں کوریا جنگ کے دوران ہندوستانی فوجیوں کی خدمات اور کردار کو اجاگر کیا گیا تھا۔
تقریب کے دوران دونوں ممالک کے سینئر حکام کی موجودگی میں ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے اور یادگاری تختیوں کی نقاب کشائی کی گئی۔ اس موقع پر فوجی بینڈ نے ہندوستان اور جمہوریہ کوریا کے قومی ترانے بھی پیش کیے۔یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھانے کی تقریب منعقد ہوئی، جس کے بعد شہید فوجیوں کے احترام میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور ’’لاسٹ پوسٹ‘‘ بجائی گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کوون اوہ-یول نے کوریا جنگ کے دوران ہندوستانی اہلکاروں کی خدمات کو سراہا اور دونوں ممالک کے مشترکہ تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔اس موقع پر مئی 2026 کے لیے کورین وار ہیرو سرٹیفکیٹ کرنل اے جی رنگاراج کی بھانجی محترمہ کلپنا پرساد کو پیش کیا گیا، جو جنگ کے دوران ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔
راج ناتھ سنگھ اور جمہوریہ کوریا کے وزیر دفاع آہن گیو-بیک نے 20 مئی کو سیول میں جامع دوطرفہ مذاکرات بھی کیے۔وزارت دفاع کے مطابق دونوں وزرائے دفاع نے دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کا جائزہ لیا اور صنعت، دفاعی پیداوار، سمندری سلامتی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، فوجی تبادلوں، لاجسٹکس اور علاقائی سلامتی جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں فریقوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ہندوستان کی ایکٹ ایسٹ پالیسی اور جمہوریہ کوریا کے علاقائی تزویراتی وژن کے درمیان ہم آہنگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ دونوں ممالک نے آزاد، کھلے، جامع اور قوانین پر مبنی انڈو پیسیفک خطے کے مشترکہ مقصد کے تحت دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔دفاعی تعاون کے اہم شعبوں میں متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری کی وسعت اور گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان معاہدوں میں دفاعی سائبر شعبے میں تعاون، ہندوستان کے نیشنل ڈیفنس کالج اور کوریا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے درمیان تربیتی تعاون، اور اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اشتراک شامل ہیں، جس سے یہ شراکت داری مزید مضبوط اور کثیر جہتی بن گئی ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے جمہوریہ کوریا کی ڈیفنس ایکوزیشن پروگرام ایڈمنسٹریشن کے وزیر لی یونگ-چل سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ ترقی، مشترکہ پیداوار اور مشترکہ برآمدات کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
اس دوران ہندوستان-کوریا ڈیفنس انوویشن ایکسلریٹر ایکو سسٹم کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ایک روڈ میپ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے اختراعی نظاموں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔
بعد ازاں راج ناتھ سنگھ نے ہندوستان-جہوریہ کوریا دفاعی صنعت بزنس راؤنڈ ٹیبل کی صدارت کی، جس میں دونوں ممالک کے سینئر سرکاری حکام اور دفاعی صنعت کے نمایاں نمائندوں نے شرکت کی۔
اس اجلاس نے دفاعی مینوفیکچرنگ، مشترکہ تحقیق و ترقی، مشترکہ پیداوار اور سپلائی چین شراکت داری کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔کاروباری رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے ہندوستان کے تیزی سے فروغ پاتے دفاعی صنعتی نظام اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کی ان پالیسیوں کا ذکر کیا، جن کا مقصد مقامی دفاعی پیداوار اور عالمی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کوریائی دفاعی کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ ہندوستانی صنعت کے ساتھ اپنے روابط کو مزید مضبوط کریں اور طویل مدتی، باہمی مفاد پر مبنی تعاون میں حصہ ڈالیں۔راج ناتھ سنگھ نے کوریائی اور ہندوستانی کمپنیوں کے اس جذبے کو بھی سراہا کہ وہ مشترکہ طور پر آتم نربھر ہندوستان (خود کفیل ہندوستان) مہم میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔