واشنگٹن: ایک امریکی عہدیدار نے جمعہ کو کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، جس سے تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور پانچ ماہ سے جاری تنازع کے باعث متاثر ہونے والی تیل کی برآمدات بحال ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے امریکی عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن کو توقع ہے کہ آبنائے ہرمز سے متصل دونوں ممالک ایران اور عمان کے درمیان جلد ایک معاہدہ ہو سکتا ہے، جس کے تحت معمول کے مطابق تجارتی تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہو سکے گی۔
تزویراتی گزرگاہ پر کنٹرول کے حوالے سے معاہدے کو وسیع تر امن معاہدے کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا، ’’آبنائے ہرمز کے معاملے پر عمان اور ایران کے درمیان پیش رفت ہو رہی ہے اور ہمیں جلد کسی معاہدے کی توقع ہے۔ جیسے ہی تجارتی جہاز رانی کو بغیر کسی رکاوٹ کے بحال کرنے کے معاہدے کا اعلان ہوگا، امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دے گا۔‘
‘ عہدیدار نے زور دیا کہ آئندہ اقدامات کا انحصار ایران کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیشہ کی طرح، امریکہ کے اقدامات بھی ایران کی جانب سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کی بنیاد پر ہوں گے۔‘‘ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی امید ظاہر کی تھی کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کسی ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچنے کے ساتھ ایندھن کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت سے تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل آبنائے ہرمز کو مستحکم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جس سے مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں پٹرول کی قیمتیں کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بات جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے یہ اعتماد بھی ظاہر کیا کہ ایران سے متعلق تنازع ’’جلد ہی‘‘ ختم ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ اسلامی جمہوریہ ایران زیادہ عرصے تک اس محاذ آرائی کو جاری رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پرعزم ہے۔ ٹرمپ نے مذاکرات کے بارے میں کہا، ’’میرے خیال میں ہم بہت اچھی پیش رفت کر رہے ہیں۔ میں مذاکرات میں شامل ہوں۔ میرے خیال میں ہم ٹھیک سمت میں جا رہے ہیں... یہ جلد ہو سکتا ہے۔‘‘ آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ سلامتی کے خدشات اب بھی موجود ہیں، لیکن بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ یہ... ابھی مکمل طور پر کھلی ہوئی ہے۔ ہمارے پاس امریکی بحریہ کی سربراہی میں ایک ناکہ بندی ہے اور اس پر ہمارا کنٹرول ہے۔ لیکن وہ کبھی بھی کوئی چیز فائر کر سکتے ہیں یا کوئی بارودی سرنگ بچھا سکتے ہیں... اگر وہاں ایک بارودی سرنگ بھی موجود ہو تو معاملات پیچیدہ ہو جاتے ہیں، کیونکہ کوئی بھی اپنے ایک ارب ڈالر مالیت کے جہاز کو لے کر یہ خطرہ مول نہیں لینا چاہتا کہ وہ غلطی سے کسی بارودی سرنگ سے ٹکرا جائے۔‘‘
دوسری جانب ایران کے قائم مقام وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل مجید ابنِ رضا نے جمعرات کو کہا کہ ملک کی مسلح افواج کسی بھی بیرونی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کی فوجی طاقت ملکی دفاعی صنعت پر مبنی ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا (IRNA) نے ابنِ رضا کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان کے حوالے سے کہا، ’’ہر روز دشمن کی طاقت کے زوال کے آثار مزید واضح ہو رہے ہیں، تاہم ہماری مسلح افواج ملک کی دفاعی صنعت پر انحصار کرتے ہوئے کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘‘