ویٹیکن سٹی: پوپ لیو چہار دہم 4 جولائی کو امریکا کے یومِ آزادی کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر اٹلی کے جزیرے لمپیڈوسا کا دورہ کریں گے، جہاں وہ تارکینِ وطن سے ملاقات کریں گے، بحیرۂ روم عبور کرنے کے دوران جان گنوانے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کریں گے اور کھلے میدان میں دعائیہ عبادت (ماس) کی قیادت کریں گے۔
سی این این کے مطابق لمپیڈوسا یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تارکینِ وطن کے لیے اہم راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں بحیرۂ روم عبور کرتے ہوئے ہر سال بڑی تعداد میں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ تارکینِ وطن کا مسئلہ پوپ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے درمیان اختلاف کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جو کیتھولک مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، اس معاملے پر پوپ کے مؤقف کو پہلے "تشویشناک" قرار دے چکے ہیں۔
امریکا کی کیتھولک چرچ کے دو رہنماؤں نے سی این این کو بتایا کہ 4 جولائی کو لمپیڈوسا کا یہ دورہ امریکا کی امیگریشن پالیسی کے حوالے سے ایک واضح پیغام بھی ہے۔ پوپ لیو، جو پوپ منتخب ہونے سے قبل پیرو میں بشپ تھے، وینزویلا سے آنے والے مہاجرین کی عملی مدد کرتے رہے۔ پوپ بننے کے بعد بھی انہوں نے امریکا میں تارکینِ وطن کے خلاف سخت اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کو "غیر انسانی" قرار دیا ہے۔
اپنے دورے کے دوران پوپ بحیرۂ روم میں ہلاک ہونے والے تارکینِ وطن کی قبروں پر پھولوں کی چادر چڑھائیں گے، مہاجرین کے ایک گروپ سے ملاقات کریں گے اور کھلے میدان میں خصوصی دعائیہ عبادت کی قیادت کریں گے۔ پوپ منتخب ہونے کے بعد انہوں نے امریکا میں ایسے کئی بشپ مقرر کیے ہیں جو خود تارکینِ وطن کے طور پر وہاں پہنچے تھے، جن میں ایک بشپ بھی شامل ہیں جو 18 برس کی عمر میں ایل سلواڈور سے ایک گاڑی کی ڈگی میں چھپ کر امریکا پہنچے تھے۔
پوپ لیو اپنے پیش رو پوپ فرانسس کی روایت کو بھی آگے بڑھا رہے ہیں، جنہوں نے پوپ منتخب ہونے کے فوراً بعد لمپیڈوسا کا دورہ کیا تھا تاکہ خطرناک سمندری سفر کے دوران ہلاک ہونے والے تارکینِ وطن کی مشکلات کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔ سی این این کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ کی مخالفت پر پوپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ پوپ نے اس جنگ کو "منصفانہ جنگ" قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کارروائی میں "جائز جنگ" کے نظریے سے متعلق تمام اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی۔ اپریل میں نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا تھا کہ ایران جنگ پر اظہارِ خیال کرتے وقت پوپ کو الٰہیات اور "جائز جنگ" کے نظریے کو مدنظر رکھنا چاہیے۔