میلبرن::وزیراعظم نریندر مودی کے 8 سے 10 جولائی تک آسٹریلیا کے دورے کے دوران دفاع، بحری سلامتی، توانائی، جدید ٹیکنالوجی، تعلیم، کان کنی، تحقیق اور ثقافتی تعاون سمیت 18 اہم فیصلے اور معاہدے طے پائے، جن سے ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہوئی۔وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے دفاع اور سلامتی سے متعلق مشترکہ اعلامیہ، بحری سلامتی تعاون کا روڈ میپ، توانائی کی سلامتی پر مشترکہ بیان اور شہری جوہری معاہدے کے تحت ایک انتظامی معاہدہ منظور کیا۔ اس کے علاوہ تعلیم، ہنرمندی، تحقیق، اختراع اور ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق متعدد معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے۔
دفاع اور سلامتی سے متعلق مشترکہ اعلامیے کا مقصد دفاعی صنعت میں اشتراک، مشترکہ اختراعات، معلومات کے تبادلے اور انسانی امداد و قدرتی آفات سے نمٹنے کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔بحری سلامتی تعاون کے روڈ میپ کے تحت معلومات کے تبادلے، صلاحیت سازی، مشترکہ کارروائیوں، سمندری آلودگی سے نمٹنے، تلاش و بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد کے میدان میں تعاون بڑھایا جائے گا۔
دونوں ممالک نے توانائی کی سلامتی پر مشترکہ بیان بھی جاری کیا جس میں توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس میں آسٹریلیا کے لیے مائع ایندھن اور توانائی سے متعلق مصنوعات کی فراہمی میں ہندوستان کے کردار کو سراہا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان توانائی کی مسلسل سپلائی برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔
ہندوستان اور آسٹریلیا کے شہری جوہری معاہدے کے تحت کیے گئے انتظامی معاہدے کے ذریعے آسٹریلیا ہندوستان کو یورینیم فراہم کرے گا جس سے توانائی کے ذرائع میں تنوع آئے گا اور ملک کی توانائی سلامتی مزید مستحکم ہوگی۔دونوں ممالک نے سائبر سکیورٹی، اہم ٹیکنالوجی اور مضبوط سپلائی چین کے لیے نئی شراکت داری کا بھی آغاز کیا۔ اس کے علاوہ ہندوستانی کوسٹ گارڈ اور آسٹریلیا کی میری ٹائم بارڈر کمانڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تاکہ ساحلی نگرانی، سمندری معلومات کے تبادلے اور سمندری قانون کے نفاذ میں تعاون بڑھایا جا سکے۔
آسٹریلیا نے 2028-29 کے دوران ایک ہندوستانی فوجی انسٹرکٹر کو آسٹریلین ڈیفنس کالج میں تعینات کرنے کی بھی دعوت دی تاکہ پیشہ ورانہ فوجی تعاون اور تجربات کے تبادلے کو فروغ مل سکے۔اقتصادی اور تعلیمی شعبے میں بھونیشور کے نیشنل اسکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں کان کنی اور کان کنی کے آلات سے متعلق ایک سینٹر آف ایکسیلنس قائم کرنے پر اتفاق ہوا۔ فلنڈرز یونیورسٹی کو بنگلورو میں اور وکٹوریہ یونیورسٹی کو گروگرام میں اپنا کیمپس قائم کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
ہندوستان کی نیشنل کونسل فار ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ اور آسٹریلیا کی اسکلز کوالٹی اتھارٹی کے درمیان پیشہ ورانہ تعلیم کے معیار، تربیتی نظام اور صلاحیت سازی کے لیے بھی مفاہمتی معاہدہ طے پایا۔دورے کے دوران آسٹریلیا نے ہندوستان کے تین نایاب تاریخی نوادرات بھی واپس کیے جن میں نندی کا مقدس مجسمہ، بھدرکالی کے ساتھ کانسی کا ترشول اور بارہویں صدی کا شش رخا کارتکیہ کا مجسمہ شامل ہے۔
دونوں ممالک نے گاندھی نگر کی پنڈت دیندیال انرجی یونیورسٹی میں روف ٹاپ سولر ٹریننگ اکیڈمی کا بھی افتتاح کیا جہاں 2,000 خواتین اور نوجوانوں کو شمسی توانائی کے شعبے میں تربیت دی جائے گی۔اس کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی اور اختراع، معدنی وسائل کی تلاش، روایتی علمی ذخیرے کے تحفظ، مشترکہ سائنسی تحقیق اور فلمی تعلیم کے شعبوں میں بھی متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔