امریکہ ایران مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہونے کا امکان وائٹ ہاؤس

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 16-04-2026
امریکہ ایران مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہونے کا امکان وائٹ ہاؤس
امریکہ ایران مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہونے کا امکان وائٹ ہاؤس

 



واشنگٹن ڈی سی:وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا اگلا دور غالب امکان ہے کہ پاکستان میں منعقد ہوگا۔

صحافیوں کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئندہ بات چیت غالباً اسی مقام پر ہوگی جہاں پچھلا دور ہوا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اس وقت ان مذاکرات میں واحد ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ دنیا کے کئی ممالک نے اس عمل میں مدد کی پیشکش کی ہے۔

کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امریکی انتظامیہ پاکستان کے ذریعے رابطے کے اس نظام کو برقرار رکھنے کو اہم سمجھتی ہے۔ ان کے مطابق صدر کا خیال ہے کہ اسی چینل کے ذریعے بات چیت کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اس سے قبل اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام جیسے اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہے۔

دریں اثنا پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر حال ہی میں وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ تہران پہنچے جہاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان کا استقبال کیا۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان ایک نئی امریکی تجویز بھی ساتھ لے کر گیا ہے جس کا مقصد مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور دو ہفتوں کی نازک جنگ بندی جاری ہے۔ ساتھ ہی آبنائے ہرمز کے حوالے سے ممکنہ امریکی بحری ناکہ بندی کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ اگرچہ وہ موجودہ جنگ بندی میں توسیع کے خواہاں نہیں ہیں مگر مذاکرات کے ذریعے حل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ آئندہ چند دنوں میں پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

اس سے قبل 11 اور 12 اپریل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی حکام کے درمیان ہونے والی براہ راست بات چیت 21 گھنٹے تک جاری رہی لیکن ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر حساس معاملات پر اختلافات کے باعث کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔