کیف پر رات بھر روسی میزائل اور ڈرون حملے، دھماکوں اور آگ سے متعدد عمارتیں متاثر

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 02-07-2026
کیف پر رات بھر روسی میزائل اور ڈرون حملے، دھماکوں اور آگ سے متعدد عمارتیں متاثر
کیف پر رات بھر روسی میزائل اور ڈرون حملے، دھماکوں اور آگ سے متعدد عمارتیں متاثر

 



 کیف: روس نے جمعرات کی علی الصبح یوکرین کے دارالحکومت کیف پر رات بھر میزائلوں اور ڈرونز سے شدید حملے کیے، جس کے نتیجے میں شہر کے مختلف علاقوں میں زور دار دھماکے، آگ لگنے کے واقعات اور رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

رپورٹ کے مطابق، یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے حملوں سے چند گھنٹے قبل خبردار کیا تھا کہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق روس دارالحکومت پر ایک اور "بڑے پیمانے کا حملہ" کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی تھی کہ فضائی حملے کے سائرن کو سنجیدگی سے لیں اور انتہائی احتیاط برتیں۔

بدھ کی شب دیر گئے کیف بھر میں فضائی حملے کے سائرن بج اٹھے، جس کے بعد حملہ آور ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کی کئی لہریں شہر کی جانب بڑھیں۔ شہریوں نے مسلسل فضائی دفاعی کارروائی اور یکے بعد دیگرے ہونے والے طاقتور دھماکوں کی آوازیں سنیں، جبکہ شہر کے مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، جن میں شہر کے وسط میں لگنے والی بڑی آگ بھی شامل ہے۔

حکام کی وارننگ کے بعد بڑی تعداد میں شہری اپنے اہل خانہ، سونے کا سامان اور پالتو جانوروں سمیت میٹرو اسٹیشنوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔

کیف کے میئر ویٹالی کلچکو نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ محفوظ پناہ گاہوں میں ہی رہیں کیونکہ بیلسٹک میزائل یوکرین کی فضائی حدود میں داخل ہو چکے ہیں۔

بعد ازاں ویٹالی کلچکو نے بتایا کہ ایک نو منزلہ رہائشی عمارت منہدم ہونے کے بعد امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ فائر فائٹرز کم از کم دو اضلاع میں آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جن میں ایک ہوٹل کی چھت اور ایک رہائشی عمارت بھی شامل ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق جانی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم میئر کے مطابق پانچ طبی عملے کے اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یوکرین نے حالیہ ہفتوں میں ماسکو پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں، روسی ایندھن کی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور کریمیا پر حملوں میں اضافہ کیا ہے تاکہ روس پر جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے۔

دریں اثنا، آئرلینڈ کے دورے کے دوران صدر زیلنسکی نے کہا، "ولادیمیر پوتن جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں، اس لیے ان پر ایسے حالات مسلط کیے جانے چاہئیں جن سے اس جنگ کو جاری رکھنا ان کے لیے ناممکن ہو جائے۔"

ادھر 25 جون کو روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے امریکہ کو یوکرین کو مسلسل فوجی امداد فراہم کرنے پر خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے علاقائی اور عالمی استحکام پر "غیر متوقع نتائج" مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن کی جانب سے کیف حکومت کو اسلحہ فراہم کرنا تنازع کو مزید طول دے سکتا ہے۔