تہران
رپورٹ کے مطابق اسلامک ریولوشنری گارڈ کور نے جمعہ کی علی الصبح "آپریشن ٹرو پرومس 4" کی 83ویں لہر شروع کرنے کا اعلان کیا، جس کے تحت خطے میں امریکی اور اسرائیلی فوجی تنصیبات کو جدید میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔پریس ٹی وی کے مطابق، نشانہ بنائے گئے اہداف میں اشدود میں تیل کے ذخیرہ ٹینک اور آئل ڈپو، موڈیعین بستی میں فوجی اہلکاروں کا مقام، اور خطے میں امریکی فوج کا معلوماتی تبادلہ مرکز شامل تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ آئی آر جی سی نے الدفرہ اور الادیری میں امریکی فوجی اڈوں پر بھی حملے کیے، جبکہ علی السالم ایئر بیس پر ٹرانسپورٹ طیاروں اور ڈرونز کے مینٹیننس اور ذخیرہ ہینگرز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ان اہداف کے علاوہ، ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں میں امریکی افواج کے جیٹ اور لڑاکا طیاروں کے ایندھن کے ٹینک، اور شیخ عیسیٰ بیس پر پیٹریاٹ میزائل سسٹم کے مرمت و دیکھ بھال کے ہینگر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
آئی آر جی سی کے بیان کے مطابق، جسے پریس ٹی وی نے نقل کیا، ان حملوں میں طویل فاصلے اور درمیانے فاصلے کے نظام، ٹھوس اور مائع ایندھن والے میزائل، درست نشانہ بنانے کی صلاحیت اور متعدد وارہیڈ ٹیکنالوجی، نیز خودکش اور لوئٹرنگ ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔
یہ پیش رفت اس کے باوجود سامنے آئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائیوں میں نرمی کا اشارہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایران نے اپنی توانائی تنصیبات پر امریکی حملوں کو روکنے کے لیے سات دن کی مہلت طلب کی تھی، لیکن انہوں نے اس مدت کو بڑھا کر 6 اپریل تک 10 دن کر دیا، تاہم امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیاں جاری ہیں۔
تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار کے تجزیے کے مطابق، مشترکہ افواج ایران کی میزائل فورسز، لانچرز، میزائل ذخیرہ گاہوں اور پیداوار کی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں۔
ایرانی دفاعی صنعتی ڈھانچے پر حملوں میں شدت آ گئی ہے۔ تھنک ٹینک کے مطابق، ممکنہ طور پر فارس صوبے کے شہر شیراز میں واقع 7ویں ارتش ایئر فورس ٹیکٹیکل ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
ادھر انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب حالیہ فوجی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جن کی تازہ ترین اطلاع منگل کی شام موصول ہوئی ہے۔