ٹوکیو
جمعہ کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، کیونکہ امن مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بدستور منڈیوں پر چھائی ہوئی ہے، حالانکہ بعض رپورٹس میں یہ کہا گیا تھا کہ فریقین کے درمیان اختلافات میں کمی آئی ہے۔یورینیم کے ذخائر اور اہم آبنائے ہرمز پر کنٹرول جیسے معاملات اب بھی تعطل کا شکار ہیں، جس کے باعث کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں مسلسل رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ مذاکرات سے ’’مثبت اشارے‘‘ ملے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں کسی قسم کا ٹول نظام قابلِ قبول نہیں ہوگا۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یورینیم کا ذخیرہ بالآخر حاصل کر لیا جائے گا، جبکہ ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم اسے حاصل کر لیں گے۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہم اسے اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔ غالب امکان ہے کہ اسے حاصل کرنے کے بعد ہم اسے تباہ کر دیں گے، لیکن ہم ایران کو اس کا مالک بنے رہنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ تیل کی قیمتیں ’’ریڈ زون‘‘ میں داخل ہو سکتی ہیں، کیونکہ گرمیوں کے موسم میں طلب اپنے عروج پر ہوتی ہے اور مشرقِ وسطیٰ سے نئی سپلائی میں کمی قیمتوں کو مزید اوپر لے جا سکتی ہے۔برینٹ خام تیل کی قیمت 1.6 فیصد اضافے کے ساتھ 104.2 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل ایک فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 97.43 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
جمعرات کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد کمی آئی تھی، کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید تھی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات سے ملنے والے مثبت اشارے منڈیوں میں استحکام پیدا کریں گے۔تاہم سفارتی سطح پر کسی نمایاں پیش رفت کے نہ ہونے سے سرمایہ کاروں کے خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں، اور اب وہ مشرقِ وسطیٰ میں طویل عرصے تک غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
مالیاتی ادارے سٹی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ قریبی مدت میں برینٹ خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا وقت اور رفتار بڑی حد تک ایرانی حکومت کے فیصلوں پر منحصر ہے، اس لیے اس بارے میں حتمی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔ ہماری رائے میں اس بات کا امکان بڑھ رہا ہے کہ ایرانی حکومت کچھ عرصے تک آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا کرے گی، لیکن بالآخر کسی نہ کسی سمجھوتے پر پہنچ جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آبنائے ہرمز بند رکھنے سے حاصل ہونے والے فوائد اور اسے دوبارہ کھولنے سے حاصل ہونے والے فوائد کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔
توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافے کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے، جس کے باعث مختلف ممالک کے مرکزی بینک محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔توانائی کی منڈیوں میں جاری غیر یقینی صورتحال اور شدید اتار چڑھاؤ کا اثر بانڈ مارکیٹوں پر بھی واضح طور پر دیکھا گیا ہے۔ شرحِ سود میں ممکنہ اضافے کے خدشات کے پیش نظر بانڈز پر حاصل ہونے والا منافع (ییلڈ) بھی بڑھ گیا ہے۔