منیلاامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی پاسداری نہیں کر رہا اور مذاکرات میں سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کر رہا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے دیا گیا تو یہ عالمی تجارت اور بحری آمدورفت کی آزادی کے لیے نہایت خطرناک مثال ثابت ہوگی۔فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان کے بعد از وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ اب بھی سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اختلافات حل کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے براہ راست اور بالواسطہ دونوں ذرائع سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن طے پانے والے معاہدوں پر عمل نہیں کیا۔روبیو نے کہا کہ اگر ایران سنجیدگی سے بات چیت کرنا چاہتا ہے تو امریکہ بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ تیار ہے لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو امریکہ اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
امریکی وزیر خارجہ نے ایران کے اس مؤقف پر بھی تنقید کی کہ اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر اختیار حاصل ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور کسی بھی ملک کو اس پر یکطرفہ کنٹرول کا حق حاصل نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی ملک کو طاقت کے زور پر عالمی آبی گزرگاہ پر کنٹرول کرنے اور جہازوں سے محصول وصول کرنے یا ان پر حملہ کرنے کی اجازت دی گئی تو یہ نہایت خطرناک نظیر قائم کرے گا جس کے اثرات دنیا کے دوسرے علاقوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
روبیو نے کہا کہ اصل مسئلہ صرف آبنائے ہرمز نہیں بلکہ عالمی سطح پر بحری آمدورفت کی آزادی کا بنیادی اصول ہے۔ اگر اس اصول کو نقصان پہنچا تو عالمی معیشت اور گزشتہ ڈیڑھ سو برس سے قائم بین الاقوامی تجارتی نظام بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ امریکہ مثبت اور تعمیری مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن شرط یہ ہے کہ کیے گئے وعدوں اور معاہدوں کی مکمل پاسداری کی جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس کے نتائج بھی سامنے آئیں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات پر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت ناکام ہو چکی ہے۔معاہدے کی ناکامی کے بعد مغربی ایشیا میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ امریکہ نے ایران کے فوجی اور بعض شہری اہداف پر حملے کیے جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں خلیج میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔