اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 14-15 مئی کو ہوگا: امریکی محکمہ خارجہ
واشنگٹن
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جامع امن اور سکیورٹی معاہدے کو آگے بڑھانے اور حزب اللہ کے مسئلے پر بات چیت کے لیے مذاکرات کا اگلا اہم دور 14 اور 15 مئی کو ہوگا، جس میں امریکہ سہولت کار کا کردار ادا کرے گا۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان تھامس ٹومی پگٹ کی جانب سے جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق جاری بیان میں کہا گیا کہ آئندہ مذاکرات 23 اپریل کو ہونے والی بات چیت کا تسلسل ہوں گے، جس کی قیادت خود ڈونلڈ ٹرمپ نے کی تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکہ 14 اور 15 مئی کو اسرائیل اور لبنان کی حکومتوں کے درمیان دو روزہ اہم مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔محکمہ خارجہ کے مطابق دونوں وفود تفصیلی بات چیت کریں گے، جس کا مقصد بنیادی مسائل کا حل، پائیدار امن کا خاکہ، سکیورٹی انتظامات، سرحدوں کی تعیین اور لبنان کے لیے انسانی و تعمیرِ نو معاونت کو آگے بڑھانا ہے۔
بیان کے مطابق مقصد گزشتہ دو دہائیوں کے ’’ناکام طریقۂ کار‘‘ سے آگے بڑھنا ہے، جس نے شدت پسند گروہوں، خاص طور پر حزب اللہ، کو اپنی موجودگی مضبوط کرنے، لبنانی ریاستی اختیار کو کمزور کرنے اور اسرائیل کی شمالی سرحد کو خطرے میں ڈالنے کا موقع دیا۔امریکہ نے مزید کہا کہ مذاکرات کا محور لبنان کی مکمل خودمختاری کی بحالی اور طویل مدتی استحکام کے لیے حالات سازگار بنانا ہوگا۔
اطلاعات کے مطابق دونوں فریق اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکراتی عمل میں شامل ہونے پر متفق ہوئے ہیں، جبکہ امریکہ اختلافات کم کر کے ’’اسرائیل کے لیے پائیدار سلامتی اور لبنان کے لیے خودمختاری و تعمیر نو‘‘ کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا۔محکمہ خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مکمل امن کا انحصار لبنانی ریاستی اختیار کی مکمل بحالی اور حزب اللہ کے مکمل غیر مسلح ہونے پر ہے، جسے امریکہ نے غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکہ دونوں حکومتوں کے اس عمل سے وابستگی کا خیرمقدم کرتا ہے اور یہ تسلیم کرتا ہے کہ جامع امن لبنانی ریاستی اختیار کی مکمل بحالی اور حزب اللہ کے مکمل غیر مسلح ہونے سے مشروط ہے، جسے امریکہ غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔
اس میں مزید کہا گیا کہ یہ مذاکرات کئی دہائیوں پر محیط تنازع کے خاتمے اور دونوں ممالک کے درمیان دیرپا امن کے قیام کی جانب ایک اور اہم قدم ہیں۔گزشتہ ماہ ٹرمپ نے دونوں فریقوں کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی اور لبنان میں امریکی سفیر میشل عیسیٰ کے ساتھ ملاقات کے بعد سامنے آیا تھا۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کی جا رہی ہے۔
اپریل کے وسط میں ٹرمپ نے ابتدائی 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد 24 اپریل کو انہوں نے تین ہفتے کی توسیع کا اعلان کیا۔ادھر منگل کو مارکو روبیو نے کہا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ ’’مکمل طور پر ممکن‘‘ ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی حمایت یافتہ باغی تنظیموں کے باعث یہ عمل مشکل ہوگا۔
پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے روبیو نے دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان استحکام کی راہ میں اصل رکاوٹ لبنان میں حزب اللہ کی موجودگی اور اس کی سرگرمیاں ہیں۔ انہوں نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ باغی گروہ کی کارروائیوں کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔
روبیو نے کہا کہ میرے خیال میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ مکمل طور پر ممکن ہے اور ہونا بھی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان مسئلہ اسرائیل یا لبنان نہیں بلکہ حزب اللہ ہے۔ حزب اللہ لبنانی سرزمین سے کارروائیاں کرتی ہے، وہ اسرائیلیوں پر حملے کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی لبنانی عوام کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ لبنان پر اسرائیلی حملوں کی وجہ حزب اللہ ہے۔
اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ حزب اللہ بھی شمالی اسرائیل پر جوابی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔