کاٹھمنڈو: 26 اگست کو آنے والے تباہ کن اچانک سیلاب کے بعد نیپال میں امدادی اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔ نیپال پولیس نے ہفتہ کو بتایا کہ سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 1344 ہوگئی ہے۔نیپال پولیس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے ہلاکتوں کی تازہ تعداد جاری کی۔تباہ کن سیلاب کے بعد نیپال میں زندگی کے مختلف شعبے متاثر ہوئے ہیں۔ حکام کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پینے کے پانی کے ذرائع آلودہ ہونے اور متعدی بیماریوں کے پھیلنے کے خدشات کا بھی سامنا ہے۔
کٹھمنڈو پوسٹ نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ سیلاب سے متاثرہ بیڈور میں پینے کے پانی کے 15 ذرائع میں سے 5 میں ای کولی بیکٹیریا کی موجودگی پائی گئی ہے۔
حکام اب تقریباً 1 لاکھ کمزور افراد کو ہیضے سے بچاؤ کی ویکسین اور 75 ہزار سے زائد بچوں کو خسرہ سے بچاؤ کی ویکسین دینے پر غور کر رہے ہیں۔ بیڈور ان علاقوں میں شامل ہے جو بھوٹے کوشی سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں کے علاوہ کئی بستیاں بھی مکمل طور پر بہہ گئیں جبکہ سڑکوں اور پلوں سمیت پینے کے پانی کے نظام جیسے اہم بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔
نیپالی ذرائع ابلاغ کے مطابق صحت عامہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ قدرتی آفت کے بعد متعدی بیماریوں کے ساتھ ساتھ غیر متعدی اور مچھروں سمیت دیگر حشرات کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین نے حکام کو احتیاطی اور امدادی اقدامات تیز کرنے کا مشورہ دیا ہے اور کم عمر بچوں بزرگوں اور غیر متعدی بیماریوں میں مبتلا افراد پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیا ہے۔
امدادی اور بحالی کی کارروائیاں جاری رہنے کے دوران نیپال حکومت نے متاثرہ علاقوں کے لیے فوری مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ قومی ادارہ برائے قدرتی آفات میں خطرات میں کمی اور انتظام کے مطابق رسووا اور نواکوٹ کے لیے فی ضلع 1 کروڑ نیپالی روپے جبکہ ڈھڈنگ کے لیے 50 لاکھ نیپالی روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 15 متاثرہ مقامی حکومتوں کے درمیان 13 کروڑ 50 لاکھ نیپالی روپے تقسیم کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل جمعہ کو امریکی قانون سازوں کے ایک گروپ نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے اپیل کی کہ وہ سیلاب سے متاثرہ نیپال میں امریکی امدادی اور تلاش و بچاؤ کی کارروائیوں میں اضافہ کریں۔ قانون سازوں نے آفات سے نمٹنے والی خصوصی امدادی ٹیم تعینات کرنے اور مزید انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر تعمیر نو کے لیے منصوبہ بندی شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دریں اثنا ہندوستان کی خصوصی سرنگوں میں بچاؤ اور طبی ٹیمیں نیپالی فوج کے ساتھ مل کر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پیچیدہ تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔نیپال میں ہندوستان کے سفیر نوین سریواستو نے جمعرات کو سیلاب سے متاثرہ نیپال میں ہندوستان کی جاری انسانی امداد خصوصی سرنگ بچاؤ دستوں اور 19 رکنی فرانزک ٹیم کی خدمات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ نیپال کی جانب سے تعمیر نو کے لیے مدد کی درخواست کیے جانے پر ہندوستان مثبت ردعمل دے گا۔26 اگست کو آنے والے اچانک سیلاب کے بعد ہندوستان کے فوری ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے سفیر سریواستو نے بتایا کہ ہندوستان نے ہنگامی امدادی سامان سے بھرے 5 طیارے روانہ کیے ہیں جبکہ نیپال کی اعلیٰ قیادت سے براہ راست رابطہ بھی فوری طور پر قائم کیا گیا تھا۔
بچاؤ امداد اور بحالی کی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ حکام سیلاب سے ہونے والی تباہی کے پیمانے کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی اور صحت عامہ سے متعلق خدشات سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔