ہندوستانی شہریوں کی ہلاکت، وزارت خارجہ نے کیا روسی سفارت کار طلب

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 21-07-2026
ہندوستانی شہریوں کی ہلاکت، وزارت خارجہ نے کیا  روسی سفارت کار طلب
ہندوستانی شہریوں کی ہلاکت، وزارت خارجہ نے کیا روسی سفارت کار طلب

 



نئی دہلی:وزارت خارجہ نے منگل کے روز روس کے قائم مقام سفیر ولادیمیر لادانوف کو طلب کرکے تجارتی بحری جہاز ایم وی گولڈن لیو پر حملے کے معاملے میں ہندوستان کی شدید تشویش اور دوٹوک مذمت سے آگاہ کیا۔ اس حملے میں چار ہندوستانی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ روسی سفارت کار کو بتایا گیا کہ تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے حملے بین الاقوامی سمندری تجارت کے تحفظ، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ 19 جولائی 2026 کو تجارتی جہاز ایم وی گولڈن لیو پر ہونے والے حملے میں چار ہندوستانیوں کی جان چلی گئی۔ وزارت نے اس واقعے پر گہری تشویش اور واضح مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حملے بین الاقوامی سمندری تجارت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

وزارت خارجہ نے روسی قائم مقام سفیر سے کہا کہ وہ ماسکو میں اپنی حکومت تک ہندوستان کے سخت موقف سے آگاہ کریں۔ وزارت نے واضح کیا کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا اور بے گناہ شہریوں کی جانوں کا ضیاع کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے اور ایسے واقعات سے گریز کیا جانا چاہیے۔

یہ بیان اس واقعے کے بعد سامنے آیا جس میں اتوار کی شام یوکرین کی بندرگاہ اوڈیسا سے روانگی کے دوران ایم وی گولڈن لیو پر حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں چار ہندوستانی شہری ہلاک ہوگئے جبکہ ایک اور ہندوستانی عملے کا رکن شدید زخمی ہوا اور اسپتال میں زیر علاج ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق حملے کے وقت جہاز پر مجموعی طور پر 17 افراد پر مشتمل عملہ موجود تھا جن میں 5 ہندوستانی شہری شامل تھے۔ دستیاب معلومات کے مطابق چار ہندوستانیوں کی موت ہوگئی جبکہ ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

وزارت نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین میں ہندوستانی سفارت خانہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

وزارت نے ایک بار پھر اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا، شہری ملاحوں کی جان خطرے میں ڈالنا اور سمندری آمد و رفت اور تجارت کی آزادی میں رکاوٹ ڈالنا انتہائی قابل مذمت ہے۔

ادھر یوکرین کی بحریہ نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ میزائل حملہ روس نے کیا۔ یوکرینی بحریہ کے مطابق گنی بساؤ کے پرچم تلے چلنے والا یہ بحری جہاز اناج لے جا رہا تھا اور جنگی علاقے سے نکلتے وقت اس پر Kh-59/Kh-69 کروز میزائلوں سے تین حملے کیے گئے۔

یوکرینی بحریہ کے مطابق میزائل جہاز کے دائیں جانب بالائی حصے سے ٹکرائے جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی۔ واقعے کے فوراً بعد بحریہ اور سمندری تلاش و بچاؤ کے اداروں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

وزارت خارجہ نے زور دیا کہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق شہری تجارتی جہازوں کی سلامتی اور سمندری آمد و رفت کی آزادی کا ہر حال میں تحفظ کیا جانا چاہیے۔