لبنان: حملوں اور 47 افراد ہلاک،اب اسرائیل کا سیزفائر پر اتفاق

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 20-06-2026
لبنان: حملوں اور 47 افراد ہلاک،اب اسرائیل کا سیزفائر پر اتفاق
لبنان: حملوں اور 47 افراد ہلاک،اب اسرائیل کا سیزفائر پر اتفاق

 



بیروت: لبنان میں حالیہ حملوں کے نتیجے میں 47 افراد ہلاک ہونے کے بعد اسرائیل نے جنگ بندی (سیز فائر) پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق حالیہ جھڑپوں اور حملوں میں بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے اور املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ بڑھتی ہوئی تشدد کی لہر کے بعد بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں تیز ہوئیں، جن کے نتیجے میں جنگ بندی کی جانب پیش رفت ممکن ہوئی۔

ذرائع کے مطابق سیز فائر معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، تاہم ثالثی کرنے والے فریقین نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے مزید خونریزی روکنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کا احترام کریں، شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد کی رسائی میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ جنگ بندی ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن صورتحال اب بھی نازک ہے اور اس کے پائیدار ہونے کا انحصار دونوں فریقوں کے عملی اقدامات پر ہوگا۔ خطے میں امن کے قیام کے لیے مزید مذاکرات اور سفارتی کوششوں کی ضرورت برقرار رہے گی۔

 امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے کے تحت یہ طے پایا تھا کہ امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر روک دیں گے۔ تاہم معاہدے کے ابتدائی اعلان کے بعد اگرچہ تشدد میں عارضی کمی دیکھی گئی، لیکن گزشتہ ہفتے کے دوران جھڑپوں اور حملوں میں دوبارہ اضافہ سامنے آیا ہے۔

اس سے قبل حزب اللہ کے رکن پارلیمان حسن فضل اللہ نے کہا تھا کہ ایران نے تنظیم کو آگاہ کیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک ایک جامع اور مکمل جنگ بندی نافذ نہ ہو جائے۔

حزب اللہ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں شہری ہلاکتوں کے ساتھ گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ زمینی کارروائیاں بھی مسلسل جاری ہیں۔

لبنانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات دریائے لیطانی کے شمال میں واقع علی الطاہر پہاڑی کے علاقے پر اسرائیلی حملے کیے گئے۔ یہ علاقہ حزب اللہ کا ایک اہم عسکری مرکز سمجھا جاتا ہے۔ حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے علاقے میں پیش قدمی کرنے والی اسرائیلی فوج پر گھات لگا کر حملہ کیا، تین میرکاوا ٹینک تباہ کیے اور راکٹوں و توپ خانے کے ذریعے اسرائیلی افواج کو نشانہ بنایا۔

لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں لبنان میں 3,912 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں 746 طبی کارکن، خواتین اور بچے شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار خطے میں جاری تنازعے کے انسانی نقصان اور بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔