واشنگٹن: برطانیہ کے بادشاہ شاہ چارلس سوم نے امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات کی تاریخی بنیادوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رشتہ دوسری جنگ عظیم کے دور سے مضبوط ہوتا آیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں منعقدہ سرکاری عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے اپنے مشکل ترین ادوار میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا جس کے نتیجے میں 1949 میں نیٹو کا قیام عمل میں آیا۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ نے یورپ کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کیا اور آزادی کے محافظ کے طور پر نمایاں خدمات انجام دیں۔
شاہ چارلس نے موجودہ عالمی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کے تناظر میں دونوں ممالک کو یوکرین کی حمایت جاری رکھنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو اور اوکس جیسے اتحاد نہ صرف عسکری بلکہ تکنیکی تعاون کو بھی فروغ دیتے ہیں اور بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو سے ممکنہ علیحدگی کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔
تقریب کے دوران شاہ چارلس نے صدر ٹرمپ کو برطانوی بحریہ کی ایک آبدوز کی گھنٹی بطور تحفہ پیش کی جو 1944 میں تیار کی گئی تھی اور بحرالکاہل کی جنگ میں استعمال ہوئی تھی۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ یہ تحفہ دونوں ممالک کی مشترکہ تاریخ اور مستقبل کی علامت ہے اور مذاقاً کہا کہ اگر کبھی رابطہ کرنا ہو تو اس گھنٹی کو بجا لیا جائے۔