بیروت: جنوبی لبنان میں ہفتہ کے روز اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں لبنانی فوج کے تین اہلکار بھی شامل ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب چند روز قبل اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک نئے جنگ بندی معاہدے پر اتفاق ہوا تھا۔ لبنانی فوج کے مطابق نبطیہ اور مرجعیون کو ملانے والی سڑک پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بریگیڈیئر جنرل، ایک کیپٹن اور ایک فوجی ہلاک ہو گئے۔
فوج نے فوری طور پر ان کے نام جاری نہیں کیے۔ سرکاری خبر رساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق جنوبی لبنان کے گاؤں سکسکیہ پر ایک اور فضائی حملے میں 6 افراد ہلاک اور 4 زخمی ہوئے۔ لبنانی فوج نے اپنے بیان میں کہا: "لبنان، اس کے عوام اور اس کی فوج کے خلاف اسرائیل کی مسلسل، دانستہ اور بار بار کی جارحیت ہمارے عزم، ایمان اور ثابت قدمی کو مزید مضبوط بناتی ہے۔"
فوج کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملوں کا مقصد ان تمام کوششوں کو ناکام بنانا ہے جو استحکام کی بحالی، مکمل جنگ بندی اور مقبوضہ لبنانی علاقوں سے اسرائیلی انخلا کے لیے کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ایک گاڑی کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق مذکورہ گاڑی کفر تبنیت کے قریب موجود اسرائیلی فوجیوں کی جانب "مشکوک انداز" میں بڑھ رہی تھی اور انہیں ایسی معلومات ملی تھیں کہ حزب اللہ اسی علاقے سے اسرائیلی فوجیوں پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس کی کارروائیاں حزب اللہ کے خلاف ہیں، لبنانی فوج کے خلاف نہیں۔ لبنان کے صدر جوزف عون نے اس حملے کو "لبنان کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب لبنان واشنگٹن میں جاری مذاکرات کے ذریعے اسرائیلی حملوں کے خاتمے کی کوشش کر رہا ہے۔ واشنگٹن میں اعلان کردہ تازہ جنگ بندی امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آئی تھی۔
لبنانی حکومت حزب اللہ پر ملک کو جنگ میں دھکیلنے کا الزام عائد کرتی رہی ہے اور حالیہ کشیدگی سے قبل اسے غیر مسلح کرنے کی کوششیں بھی کی گئی تھیں، تاہم حزب اللہ نے اس جنگ بندی کو قبول نہیں کیا۔ جمعہ کے روز صدر جوزف عون اور لبنان کے وزیر اعظم نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ لبنان کو واشنگٹن کے ساتھ تہران کے مذاکرات میں "سودے بازی کے مہرے" کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
اس کے جواب میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: "صدر عون کے بیان کے بعد ایسا لگتا ہے جیسے لبنان کے پانچویں حصے پر ایران نے قبضہ کر رکھا ہو، لبنان کے ایک چوتھائی عوام کو بے گھر کیا ہو اور روزانہ لبنان پر بمباری کر رہا ہو۔" انہوں نے مزید کہا: "اگر لبنان ایران کے لیے سودے بازی کا مہرہ ہوتا تو بہت پہلے کوئی معاہدہ ہو چکا ہوتا۔
جناب صدر! لبنان کو اس کے اصل دشمن سے بچائیے۔" انہوں نے اشارہ اسرائیل کی جانب کیا۔ واضح رہے کہ موجودہ جنگ کا آغاز 2 مارچ کو اس وقت ہوا تھا جب حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ داغے تھے۔ یہ کارروائی اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے دو دن بعد کی گئی تھی۔ اس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں زمینی کارروائی شروع کی اور وسیع پیمانے پر فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔