تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اتوار کو کہا کہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات نے عوام کو اتحاد و یکجہتی کی اہمیت کا احساس دلایا ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا، ’’شہید رہبر نے سب کو یہ سبق دیا کہ ایران کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے عوام اور ان کا اتحاد ہے۔
آج بھی ہم اللہ کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے کہ ‘دو دو اور اکیلے اکیلے اللہ کے لیے کھڑے ہو جاؤ’ ہمدردی، اتفاق اور عوام کی مخلصانہ خدمت کے ذریعے ایران کی عزت، ترقی اور سربلندی کے سفر کو جاری رکھیں گے۔‘‘ دریں اثنا، الجزیرہ کے مطابق پیر کو تہران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں شریک سوگواروں نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نعرے لگائے اور ایسے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ٹرمپ کی ہلاکت کا مطالبہ درج تھا۔
جنازے کی تصاویر میں ایک بینر پر ’’ٹرمپ کو قتل کرو‘‘ لکھا ہوا تھا، جس میں لفظ ’’ٹرمپ‘‘ کے آرپار گولی کی علامت بھی دکھائی گئی تھی۔ بعض افراد نے ایسے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جن پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی تصاویر کے ساتھ ’’خون بہے گا‘‘ کے الفاظ درج تھے۔
یورونیوز کے مطابق جنازے کی تقریب میں مرثیہ خواں محمد رسولی نے بھی اشتعال انگیز خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کے قتل کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا، ’’جس نے میرے امام اور میرے رہبر کو قتل کیا، ہم اسے کیوں نہ قتل کریں؟‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اگر ہم آپ کے قاتل کو قتل نہ کریں تو یہ ہمارے لیے باعثِ شرم ہوگا۔‘‘ یورونیوز کے مطابق تقریب کے دوران ایسے پوسٹر اور نعرے بھی دیکھے گئے جن میں ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو قتل کرنے کی حمایت کی گئی تھی۔