اولان باتور::ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے منگل کے روز منگولیا کے اہم مونگول ریفائنری منصوبے کا دورہ کیا اور منصوبے پر جاری تعمیراتی کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ان کے ہمراہ منگولیا کی وزیر خارجہ باتسیتسیگ باتمونخ اور صنعت و کان کنی کے وزیر گونگور دامدین نیام بھی موجود تھے۔
وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ہندوستان اور منگولیا کی دوستی کی علامت یہ اہم منصوبہ مسلسل پیش رفت کر رہا ہے۔ انہوں نے منصوبے پر کام کرنے والی مختلف ٹیموں سے ملاقات کی اور جاری کاموں کی صورتحال کا جائزہ لیا۔انہوں نے منصوبے پر کام کرنے والے ہندوستانی اور منگولیائی کارکنوں سے بھی ملاقات کی اور مشکل حالات میں اس بڑے منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ان کی محنت اور عزم کو سراہا۔
اس سے قبل پیر کے روز جے شنکر نے منگولیا میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے منگولیا کی پارلیمان اسٹیٹ گریٹ خورال کے اسپیکر سنداگ بیامباتسوگت سے ملاقات کی اور ہندوستان۔منگولیا پارلیمانی تبادلوں اور دوستانہ تعلقات کے لیے ان کی حمایت کا خیرمقدم کیا۔جے شنکر نے منگولیا کے وزیر تعلیم ایل اینخ امرگلان اور سابق صدر این اینخبایار سے بھی ملاقات کی اور ان روابط کو دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔
اپنے دورے کے دوران انہوں نے منگولیا کے صدر خورلسخ اوخنا سے بھی ملاقات کی اور صدر جمہوریہ دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے نیک تمنائیں پہنچائیں۔بات چیت کے دوران کان کنی کے شعبے میں تعاون بڑھانے نئی ترقیاتی اسکیموں صاف توانائی زرعی پروسیسنگ تعلیم سلامتی اور کثیر فریقی فورمز میں اشتراک سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا۔
جے شنکر نے تاریخی گندن خانقاہ کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے چیف ایبٹ خامبا نومن خان گیشے لہارامپا ڈی جاوزاندورج سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خانقاہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور روحانی روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔وزیر خارجہ 22 سے 25 جون تک منگولیا اور جنوبی کوریا کے چار روزہ دورے پر ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق وہ دونوں ممالک کی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے اور دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کریں گے۔