منیلا: بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے جمعرات کو آسیان سے متعلق وزرائے خارجہ کے اجلاسوں کے موقع پر برونائی اور پاپوا نیو گنی کے اپنے ہم منصبوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعاون، ٹیکنالوجی، ترقیاتی شراکت داری اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جئے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ برونائی کے وزیر خارجہ شہزادہ عبدالمتین کے ساتھ ملاقات میں دوطرفہ تعاون، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور آسیان کے تحت روابط مضبوط بنانے پر گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈرونز اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی بات کی، تاکہ بھارت کی ایکٹ ایسٹ پالیسی کے مطابق دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم کیے جا سکیں۔
A warm meeting with FM Prince Abdul Mateen of Brunei. Congratulated him on assuming his current responsibilities.
— Dr. S. Jaishankar (@DrSJaishankar) July 23, 2026
Conveyed that rapidly changing technology, including AI, drones, digital, has opened new vistas of engagement. Also agreed to advance bilateral agenda in line with… pic.twitter.com/fY3VGUOZyI
جئے شنکر نے لکھا، ’’برونائی کے وزیر خارجہ شہزادہ عبدالمتین سے خوشگوار ملاقات ہوئی۔ انہیں نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی، خصوصاً اے آئی، ڈرونز اور ڈیجیٹل شعبے، تعاون کے نئے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ ہم نے ایکٹ ایسٹ پالیسی کے تحت دوطرفہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور آسیان کے فریم ورک میں کثیرالجہتی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔‘‘
وزیر خارجہ نے پاپوا نیو گنی کے وزیر خارجہ جسٹن ڈبلیو ٹکاچینکو سے بھی ملاقات کی، جس میں فورم فار انڈیا پیسیفک آئی لینڈز کوآپریشن (FIPIC) کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر گفتگو ہوئی۔ جئے شنکر نے کہا، ’’پاپوا نیو گنی کے وزیر خارجہ جسٹن ڈبلیو ٹکاچینکو سے ملاقات خوش آئند رہی۔ دوطرفہ تعاون، خصوصاً ایف آئی پی آئی سی کے تحت شراکت داری پر بات ہوئی۔
بھارت بحرالکاہل کے جزیرہ ممالک کی ترقی، صلاحیت سازی اور سمندری سلامتی کے شعبوں میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔‘‘ جئے شنکر دو روزہ دورے پر منیلا میں موجود ہیں، جہاں انہوں نے آسیان۔بھارت وزرائے خارجہ اجلاس، ایسٹ ایشیا سمٹ (EAS)، آسیان ریجنل فورم (ARF) اور کواڈ وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کی۔ کواڈ اجلاس میں بھارت، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا نے آزاد اور کھلے انڈو پیسیفک خطے اور آسیان کی مرکزی حیثیت کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔