انقرہ: اسرائیلی فوج نے پیر کی صبح ان بحری جہازوں کے قافلے کو روکنا شروع کر دیا جو غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ قافلہ 50 سے زائد کشتیوں پر مشتمل تھا جو گزشتہ ہفتے ترکی کے شہر مارمارس کی بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا۔ اس مشن کو منتظمین نے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کا نام دیا تھا اور اسے غزہ کے ساحل تک پہنچنے کی کوشش کا آخری مرحلہ قرار دیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق تنظیم نے براہِ راست نشریات میں دکھایا کہ قبرص کے قریب اسرائیلی فوجی اہلکار کشتیوں پر سوار ہو گئے، جبکہ اس دوران کئی کارکنان نے اس کارروائی کو ریکارڈ بھی کیا۔ کشتیوں کو روکے جانے سے پہلے اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کارکنوں سے اپیل کی تھی کہ وہ “اپنا راستہ بدلیں اور فوری طور پر واپس لوٹ جائیں۔
غزہ کی ناکہ بندی ایک طویل عرصے سے جاری ہے، جس کے تحت اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں سمندری، زمینی اور فضائی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ اس پالیسی پر عالمی سطح پر اکثر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بعض ممالک تنقید کرتے رہے ہیں، جبکہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ضروری ہیں، خاص طور پر ہتھیاروں اور عسکری سامان کی ترسیل کو روکنے کے لیے۔ اس سے قبل بھی غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش میں کئی بین الاقوامی فلوٹیلا مشنز روانہ ہو چکے ہیں، جن میں سے کچھ کو سمندر میں ہی روک لیا گیا تھا یا اسرائیلی بندرگاہوں تک لے جایا گیا تھا۔