معاہدے کی خلاف ورزی پر منہ توڑ جواب دیا جائے گا، ایران کی امریکا کو سخت وارننگ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 19-06-2026
معاہدے کی خلاف ورزی پر منہ توڑ جواب دیا جائے گا، ایران کی امریکا کو سخت وارننگ
معاہدے کی خلاف ورزی پر منہ توڑ جواب دیا جائے گا، ایران کی امریکا کو سخت وارننگ

 



تہران: ایران نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حالیہ معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی یا مذاکرات کے دوران غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو تہران اس کا "فیصلہ کن اور منہ توڑ جواب" دے گا۔

ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کے مطابق معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم اگر مخالف فریق نے بدعہدی یا معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ایران کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا۔

محمد باقر قالیباف نے کہا کہ "سپریم لیڈر نے جو ذمہ داری سونپی ہے ہم اس پر پوری سنجیدگی سے عمل کر رہے ہیں۔ اگر مخالف فریق بد نیتی کا مظاہرہ کرتا ہے یا معاہدے سے انحراف کرتا ہے تو دشمن کو سخت اور کچل دینے والا جواب دیا جائے گا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران مخالفین کو پہلے بھی جواب دیا جا چکا ہے اور اگر وہ دوبارہ اسی راستے پر چلنے کی کوشش کریں گے تو اس بار انہیں پہلے سے زیادہ سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایران کی یہ وارننگ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے کو جامع معاہدے میں تبدیل کرنے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہو چکا ہے۔ مجوزہ معاہدے میں پابندیوں کے خاتمے۔ جوہری پروگرام۔ میزائل صلاحیتوں اور خطے کی سلامتی سے متعلق معاملات شامل ہیں۔

دریں اثنا آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی واضح کیا ہے کہ مستقبل میں ہونے والے براہ راست مذاکرات کو امریکی موقف کی قبولیت نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر واشنگٹن نے غیر معمولی مطالبات پیش کیے تو ایران ہرگز دباؤ قبول نہیں کرے گا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ "آئندہ ہونے والے روبرو مذاکرات کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ ایران دشمن کے مؤقف کو تسلیم کر رہا ہے۔"

ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کی ہے کہ 60 روزہ مذاکراتی مدت 18 جون سے باضابطہ طور پر شروع ہو گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کے ایک روز بعد مذاکرات کا باقاعدہ عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

جے ڈی وینس نے معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی فوجی صلاحیتوں خصوصاً بیلسٹک میزائلوں اور لانچنگ نظام کو نمایاں نقصان پہنچایا ہے جبکہ ایران کے جائز دفاعی حق کو برقرار رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ حتمی معاہدہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران مستقبل میں ایسے میزائل تیار نہ کر سکے جو خطے سے باہر کے ممالک کے لیے خطرہ بن سکیں۔

امریکی نائب صدر نے معاہدے کو عالمی توانائی منڈی اور سمندری تجارت کے لیے بھی مثبت قرار دیا۔ ان کے مطابق گزشتہ شب آبنائے ہرمز سے ایک کروڑ پچیس لاکھ بیرل سے زائد تیل کی ترسیل ہوئی جو حالیہ کشیدگی کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ یومیہ مقدار ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحری راستوں کی بحالی اور پابندیوں میں نرمی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے جس سے امریکا میں ایندھن کی قیمتوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ فریم ورک معاہدے نے کشیدگی میں کمی کی امید پیدا کی ہے لیکن دونوں ممالک کے سخت بیانات سے واضح ہے کہ آئندہ 60 دن کے مذاکرات انتہائی حساس اور فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔