تہران : ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اس وقت تاریخی فتح کا دعویٰ کیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بمباری اور حملوں کی مہم کو معطل کرتے ہوئے دو ہفتوں کی دو طرفہ جنگ بندی پر اتفاق کیا پریس ٹی وی کے مطابق کونسل کا کہنا ہے کہ جنگ کے تقریباً تمام اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں
ایرانی حکام کے مطابق ایران نے اپنے دس نکاتی منصوبے کو تسلیم کرواتے ہوئے امریکا کو پسپا ہونے پر مجبور کیا امریکا نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول افزودگی کے حقوق اور تمام پابندیاں ختم کرنے جیسے مطالبات قبول کر لیے ہیں ساتھ ہی جارحیت روکنے نقصانات کا ازالہ کرنے اور خطے سے اپنی افواج نکالنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے
کونسل کا کہنا ہے کہ امریکا ایک ماہ سے جنگ بندی پر زور دے رہا تھا لیکن ایران نے اپنے مقاصد کو ترجیح دیتے ہوئے بار بار انکار کیا ابتدا ہی سے یہ طے تھا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دشمن کو مایوسی اور پسپائی کا سامنا نہ ہو اور ملک کو درپیش طویل مدتی خطرات ختم نہ ہو جائیں اسی لیے یہ جنگ چالیسویں دن تک جاری رہی
بیان میں کہا گیا کہ ایرانی قوم کو خوشخبری دی جاتی ہے کہ جنگ کے بیشتر مقاصد حاصل ہو چکے ہیں اور بہادر افواج نے دشمن کو تاریخی شکست سے دوچار کیا ہے ایران نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اپنی کامیابیوں کو مضبوط بنانے اور نئے سیکیورٹی و سیاسی حالات پیدا کرنے کے لیے ضرورت پڑنے پر جدوجہد جاری رکھے گا
ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران کے خلاف حملے دو ہفتوں کے لیے روک دیے گئے ہیں بشرطیکہ آبنائے ہرمز کو فوری اور محفوظ طور پر کھولا جائے انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے بیشتر فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے دس نکاتی منصوبے کو مستقل معاہدے کے لیے بنیاد بنایا جا سکتا ہے
ایران نے بھی اس پیشکش کو قبول کرتے ہوئے دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے اور فوجی کارروائیاں روکنے پر آمادگی ظاہر کی ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ اگر ایران پر حملے بند کر دیے جائیں تو اس کی مسلح افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں روک دیں گی