تہران: ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں موجود بعض افراد نے ایسی معلومات فراہم کیں جن کی مدد سے امریکی فوجی اہداف پر حملے کیے گئے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ سرحد پار کارروائی کے دوران اردن کے الازرق فضائی اڈے پر امریکی افواج کے زیر استعمال 20 ہینگرز تباہ کر دیے گئے اور درجنوں امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔
تاہم امریکہ کی جانب سے جاری سرکاری اعداد و شمار اس دعوے کی تصدیق نہیں کرتے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ موجودہ تنازع کے آغاز سے اب تک 17 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔آئی آر جی سی نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کے بیلسٹک میزائلوں نے عقبہ ہوائی اڈے پر موجود امریکی سی 17 فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں اور پی 8 نگرانی کرنے والے طیاروں کو بھی نشانہ بنایا جس سے انہیں شدید نقصان پہنچا۔
یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پیر کی صبح امریکہ نے ایران کے مختلف علاقوں میں تازہ فضائی حملے کیے۔ ان حملوں سے قبل امریکہ نے ایک اور امریکی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی جس کے بعد ایران نے اردن کی سمت میزائل داغے۔امریکی محکمہ دفاع کے مطابق حالیہ کارروائیوں کا ہدف آئی آر جی سی کے ٹھکانے تھے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں کیے گئے۔ امریکی حکام کے مطابق ایک فوجی اب بھی لاپتا ہے جبکہ اتوار کو ملنے والی نامعلوم باقیات کی شناخت کی جا رہی ہے۔
دوسرے ہفتے میں داخل ہونے والی اس کشیدگی کے دوران امریکی جنگی طیاروں نے ایران میں پلوں اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے سمیت مختلف تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
اسی دوران عمان کے قریب آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز میں بھی آگ لگ گئی۔ برطانوی حکام نے واقعے کی تصدیق کی ہے تاہم آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔ بعد ازاں آئی آر جی سی نے کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔
دوسری جانب بحرین۔ اردن اور کویت میں فضائی دفاعی نظام ایک بار پھر متحرک رہے اور ایران کی جانب سے داغے گئے ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ادھر بحرین میں امریکی سفارت خانے نے ہنگامی سکیورٹی انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران منامہ کے وسطی علاقوں میں بعض مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اس کے ساتھ ہی تل ابیب نے بھی خبردار کیا ہے کہ اردن کی سمت جانے والے ایرانی میزائل بڑے پیمانے پر آگ بھڑکا سکتے ہیں اور اس کے اثرات اسرائیلی علاقے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔نوٹ: اس خبر میں شامل ایرانی فوج کے دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔